مسیح اور مہدیؑ — Page 14
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 14 عکس حوالہ نمبر : 2 واقعہ معراج اور رسول اللہ ﷺ کا بلند مقام سیرت ابن ہشام سے حصہ دوم "اے ابو بکر تم صدیق ہو۔غرض اسی دن آپ نے انھیں صداق کا لقب عطا فر مایا۔در I☑ حسن نے کہا کہ اسی وجہ سے ان لوگوں کے متعلق جو اپنے اسلام سے مرتد ہو گئے اللہ نے نازل فرمایا: ووَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرْيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةٌ لِلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمُلْمُونَةَ فِي الْقُرْآنِ وَ نُخَونُهُم فَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا طَغْيَانًا كَبِيرًا : جو نظارہ ہم نے تجھ کو کھایا اور جس درخت پر قرآن میں لعنت کی گئی یہ تو لوگوں کے لیے ہم نے صرف ایک آزمائش بنائی تھی اور ہم انھیں ڈراتے میں تو یہ ڈرانا ان میں سخت سرکشی ہی کو زیادہ کرتا ہے“۔غرض رسول اللہ سیالی کے رات کے سفر کا یہ وہ بیان تھا جس کی روایت حسن سے پہنچی ہے اور قتادہ کی روایت کا ایک حصہ بھی اس میں داخل ہوا ہے۔ابن اسحق نے کہا کہ ابو بکر میں ان کے خاندان کے بعض افراد نے مجھ سے بیان کیا کہ (ام المومنین ) عائشہ نبی امی کہا کرتی تھیں کہ رسول اللہ میں لیٹر کا جسم مبارک مکہ سے ) غائب نہیں ہوا تھا بلکہ اللہ نے آپ کو روحی- فر کرایا تھا۔ابن الحق نے کہا کہ مجھ سے یعقوب بن عقبہ بن المغیر ، بن الاخنس نے بیان کیا کہ معاویہ بن ابی سفیان محمد میمن سے جب رسول اللہ کی تویہ کے متعلق پوچھا جاتا تو وہ کہتے تھے کہ وہ اللہ کی طرف کا ایک سچا خواب تھا اور حسن کے اس قول کے سبب سے ان دونوں کے اس قول کا انکار بھی نہیں کیا گیا یہ آیت اس کے متعلق نازل ہوئی ہے۔چنانچہ اللہ عز وجل فرماتا ہے: وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةٌ لِلنَّاسِ * اور اللہ عزوجل کے اس قول کے سبب سے جو ابراہیم کے متعلق اس نے خبر دی ہے کہ جب آپ نے اپنے فرزند سے کہا: يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَدْبَعَكَ ﴾ بیٹے میں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ میں نے تجھے ذبح کر دیا ہے۔پھر آپ نے اس پر عمل بھی کیا تو میں نے جان لیا کہ اللہ کی جانب سے انبیاء مسلم پر جو وحی آتی ہے وہ بیداری میں بھی آتی ہے اور خواب میں بھی۔ابن الحق نے کہا مجھے یہ خبر ملی ہے کہ رسول اللہ صلی ہی نہ فرمایا کرتے تھے۔