مسیح اور مہدیؑ — Page 79
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 79 قرآن و حدیث میں رفع الی اللہ 7 - قرآن وحدیث میں رفع الی اللہ کا مطلب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَمَازَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوِ إِلَّا عِرًّا وَمَا تَوَا ضَعَ 22 اَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللهُ ( صحیح مسلم مترجم جلد ششم صفحه 210 مترجم مولانا وحیدالزمان ناشر نعمانی کتب خانہ لاہور ) ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ عضو کے نتیجہ میں بندے کو عزت میں ہی بڑھاتا ہے اور کوئی بھی شخص خدا کی خاطر تواضع اور انکسار اختیار نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ اسے رفعت عطا فرماتا ہے۔تشریح صحیح مسلم کی اس حدیث میں ہر عاجزی و انکساری کرنے والے کے بارہ میں رسول اللہ کی یہ بشارت کہ اللہ تعالیٰ ان کا رفع کرتا ہے" سے ظاہر ہے کہ یہ رفع جسمانی نہیں بلکہ روحانی اور عزت و مرتبہ کے لحاظ سے ہوتا ہے۔قرآن کریم میں حضرت عیسی کے بارہ میں دَفَعَهُ الله کے یہی الفاظ بمعنی عزت و رفعت استعمال ہوئے ہیں۔دراصل حضرت مسیح ناصری کے منکر یہودی بزعم خویش انہیں صلیب پر چڑھانے کے بعد ان کی موت ثابت کر کے ملعون اور ذلیل ثابت کرنا چاہتے تھے۔اللہ نے اس کی تردید کی اور فرمایا: وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ۔۔۔۔بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ ، النساء158-159) کہ یہود حضرت عیسی کو صلیب میں چڑھانے کے باوجود قتل نہ کر سکے، نہ ہی صلیب پر مار سکے بلکہ وہ صلیب پر مجروح ہونے کے بعد مدہوشی کی حالت میں سخت آندھی آنے پر سر شام اتار لئے گئے اور ایک تہہ خانہ میں رکھ کر مشہور زمانہ مرہم عیسی سے ان کے زخموں کا علاج کیا گیا۔صحت یابی کے بعد انہوں نے کشمیر کی طرف ہجرت کی۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں یہود سے نجات دی اور کشمیر میں یوز آصف کے نام سے عزت اور رفعت عطا فرمائی اور وہ اپنے مقاصد عالیہ میں کامیاب ہوئے جیسا کہ: وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ آيَةً وَّاوَيْنهُمَا إِلَى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِينِ (المومنون:51) اور ابن مریم کو اور