مسیح اور مہدیؑ — Page 643
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 643 اہل مشرق اور مہدی کی تائید و نصرت -37۔اہل مشرق اور مہدی کی تائید و نصرت عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَرِثِ بْنِ جَزْءِ الزُّبَيْدِي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَخْرُجُ نَاسٌ مِنَ الْمَشْرِقِ فَيُوَطِئُونَ لِلْمَهْدِي يَعْنِي سُلْطَانَهُ۔225 (سنن ابن ماجد اردو جلد سوم صفحه 453 مترجم سعید مجتبی سعیدی مکتبہ اسلامیہ لاہور ) ترجمہ: حضرت عبداللہ بن حارث سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ مشرق سے کچھ لوگ نکلیں گے جو امام مہدی کے لئے راہ ہموار کریں گے اور ان کے غلبہ کے لئے خدمات انجام دیں گے۔تشریح ابن ماجہ کے علاوہ یہ حدیث شیعہ مسلک میں بھی مسلم ہے۔علامہ ابو عبد اللہ النجی الشافعی نے اس کی صحت پر اتفاق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ثقہ اور مسلّمہ راویوں نے اسے روایت کیا ہے۔كشف الغمة في معرفة الأئمة جلد 3 صفحه 278 دار الاضواء بيروت) اس حدیث سے اہل مشرق کی سعادت مندی کا پتہ چلتا ہے کہ انہیں آغاز میں امام مہدی کے لئے راہ ہموار کرنے اور غلبہ حق میں ان کے انصار بنے کی توفیق ملے گی۔دیگر احادیث میں بھی مہدی اور ان کے انصار و اعوان کا علاقہ مشرق کی سرزمین قرار دی گئی ہے۔چنانچہ مسلم کی حدیث میں ابن مریم کا نزول دمشق کے مشرق میں بتایا گیا ہے اور ظہور دقبال کا علاقہ بھی رسول اللہ نے مشرق کی سرزمین بیان فرمایا جہاں دجال کا روحانی مقابلہ مسیح و مہدی نے آکر کرنا تھا۔بعض اور روایات سے مسیح موعود کے ان اصحاب اہلِ مشرق کی عظمت و مرتبت کا اشارہ بھی ملتا ہے۔حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کی دو جماعتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے (جہنم کی) آگ سے محفوظ اور آزاد کر دیا ہے۔ایک وہ جماعت جو ( پہلی دفعہ ) ہندوستان سے جہاد کرے گی اور دوسرے وہ لوگ جو عیسی بن مریم (مسیح موعود ) کے اصحاب ہوں گے۔(سنن نسائی اردو جلد دوم صفحه 366 مترجم مولانا خورشید حسن قاسمی مکتبة العلم لاہور ) 226