مسیح اور مہدیؑ — Page 588
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 588 چھوٹے مدعیان نبوت کی پیشگوئی کا پورا ہونا 33۔چھوٹے مدعیانِ نبوت کی پیشگوئی کا پورا ہونا عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔۔وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِى كَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي۔206 سنن ابوداؤ دار دو جلد سوم صفحہ 238-239 متر جم محمد انور مگھا لوی، ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور ) ترجمہ: حضرت ثوبان ایک طویل حدیث کے آخر میں یہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اور یقیناً عنقریب میری امت میں تھیں کذاب پیدا ہوں گے ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے اور میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔تشریح ابوداؤد کے علاوہ محدث ابن ابی شیبہ اور امام حاکم نے بھی یہ حدیث بیان کی ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔(مستدرک حاکم اردو جلد 6 صفحہ 562-563 شبیر برادرز لا ہور ) اس حدیث میں رسول اللہ نے اپنے بعد ہر دعویدار نبوت کو جھوٹا قرار دینے کی بجائے معین تعداد کے ساتھ صرف تمیں کذابوں یعنی جھوٹے دعویداران نبوت کا ذکر فرمایا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ کسی بچے مدعی نبوت کے آنے کا امکان بہر حال موجود ہے ورنہ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد آنے والے صرف تمہیں جھوٹے افراد کا ذکر نہ کرتے بلکہ ہر مدعی نبوت کو ہی جھوٹا قرار دیتے۔مگر یہ کیسے ممکن تھا جبکہ آپ نے ایک سچے مسیح نبی اللہ کی آمد کی خود بشارت دی تھی۔جہاں تک معین تیں کذابوں کی تعداد کا تعلق ہے اس سے مراد جھوٹے مدعیان کی کثرت کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے کیونکہ بعض دوسری روایات میں اس سے زیادہ تعداد بھی مذکور ہے۔تا ہم اگر یہاں تھیں کا معتین عدد بھی مراد لیا جائے تو بھی یہ پیشگوئی آج سے پانچ سو برس قبل نویں صدی ہجری میں پوری ہو چکی ہے۔چنانچہ امام ابو عبد اللہ (متوفی 828ھ ) لکھتے ہیں کہ اس حدیث کی سچائی ظاہر ہو چکی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے اگر ایسے مدعیان نبوت کو شمار کیا جائے تو ان کی تعداد میں