مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 366 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 366

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 366 دجال کی قوت و شوکت اور شر دجال کی حقیقت از عکس حوالہ نمبر : 126 فقتوں اور قیامت کی نشانیاں کا بیان رَحْنا فرقنا منها أن تكون نبضانة قال آدمی ہے کہ ہم نے اتنا بڑا آدمی اور ویسا سخت جکڑا ہوا کبھی نہیں خلقنا سراعا حتى دخلنا الدير فإذا قید دیکھا۔جکڑے ہوئے ہیں اس کے دونوں ہاتھ گردن کے ساتھ إنسان رأيناه قط خلقا واحدة وناقا در میان دونوں زانو کے دونوں ٹخنوں تک لوہے سے۔ہم نے کہا إلى عنقه ما بين الی اے کمبخت تو کیا چیز ہے؟ اس نے کہا تم قابو پاگئے میری خبر پر (یعنی الْحَدِيدِ قُلْنَا وَيْلَكَ مَا أَنتَ قَال قد میرا حال تو تم کو اب معلوم ہو جائے گا) تم اپنا حال بتاؤ کہ تم کون ہو ؟ ذرتُمْ عَلَى خيري فَأَخْبِرُونِي مَا أَنتم قالوا لوگوں نے کہا کہ ہم عرب لوگ ہیں جو سمندر میں سوار ہوئے تھے نَحْنُ أَناسٌ مِنْ الْعَرَب رَكِنَا في سفينة بحرية جہاز میں لیکن جب ہم سوار ہوئے تو سمندر کو جوش میں پایا پھر ایک مصادق البحر حين اعلم قلب با الموج مہینے کی مدت تک بہر ہم سے کھیلتی رہی بعد اس کے آگے اس پہنچے شهر، ثم رفأنا إلى جزيرتك هذهِ فعلا في میں پھر ہم بیٹھے چھوٹی کشتی میں اور داخل ہوئے ٹاپو میں سو ملا ہم کو أقربها فَدَخَلْنَا الجزيرة فلقينا ذابَّةٌ أَهْلَبُ كَثیر ایک بھاری دم کا جانور بہت بالوں والا ہم نہ جانتے تھے اس کا آگا پیچھا لشَّعَرِ لَا يُدْرَى مَا قُبُلُهُ مِنْ دُبُرِه من كثر بالوں کی کثرت سے ہم نے اس سے کہا اے کمبخت تو کیا چیز ہے؟ سو الشعر فقنا ويلك ما أنت فقالت انا اس نے کہا میں جاسوس ہوں ہم نے کہا جاسوس کیا؟ اس نے کہا چلو الْحَسَّاسَةُ قُلْنَا وَمَا الْحَسَّاسَةُ قَالَتْ اعملوا اس مرد کے پاس جو دیر میں ہے کہ اہستہ وہ تمہاری خبر کا مشتاق ہے إلى هذا الرجل في الدير فإنه إلى خبركم سو ہم تیری طرف دوڑتے آئے اور ہم اس سے ڈرے کہ کہیں بِالْأَشْوَاقِ فَأَقْبَلُنَا إِلَيْكَ سِرَاعًا وَفَزِعْنَا مِنْهَا وَلَمْ بھوت پریت نہ ہو۔پھر اس مرد نے کہا کہ مجھ کو خبر دو بیسان کے نا من أن تكون شَيْطَانَهُ فَقَال أخبروني عن نخلستان سے ؟ ہم نے کہا کہ کونساماں اس کا تو پوچھتا ہے ؟ اس نے تَحْلِ بَيْسَانَ قُلْنَا عَن أي شأنها تسخیر قال کہا کہ میں اس کے نخلستان سے پوچھتا ہوں کہ پھلتا ہے ؟ ہم نے اس أسْأَلُكُمْ عَنْ نَعْلِها هَلْ يُشيرُ قُلْنَا لَهُ نَعم قال سے کہا ہاں پھلتا ہے۔اس نے کہا خبر دار ہو کہ مقرر عنقریب ہے کہ أمَا إِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ لَا تُنْمِرَ قَالَ أَخْبِرُونِي عن رونہ پھلے گا اس نے کہا کہ بتاؤ مجھ کو طبرستان کا دریا ہم نے کہا کو نسا بخيرَةِ الطَّبَرِيَّةِ قُلْنَا عَنْ أَيِّ شَأْنها تستخبر قال حال اس دریا کا تو پوچھتا ہے ؟ وہ بولا اس میں پانی ہے ؟ لوگوں نے کہا هل فيها مَاءً قَالُوا هي كبيرةُ الْمَاء قَالَ أَمَا إِنَّ اس میں بہت پانی ہے۔اس نے کہا البتہ اس کا پانی عنقریب جاتا ر ہے ما عما يُوشِكُ أَنْ يَذْهَبَ قَالَ أَخْبِرُونِي عَن گا۔پھر اس نے کہا خبر دو مجھے کو ز غمر کے چشمے سے۔لوگوں نے کہا کیا عَيْن زُغَرَ قَالُوا عَنْ أَيِّ شَانها تستخير قال حال اس کا پوچھتا ہے ؟ اس نے کہا اس چشمہ میں پانی ہے اور وہاں کے هَلْ فِي الْعَيْنِ مَاءً وَهَلْ يَزْرَعُ أَهْلُهَا بِمَاء الْعَيْنِ لوگ اس کے پانی سے کھیتی کرتے ہیں؟ ہم نے اس سے کہا ہاں اس قلْنَا لَهُ نَعَمُ فِي كَثِيرَةُ الْمَاءِ وَأَهْلَهَا يَزْرَعُونَ میں بہت پانی ہے اور وہاں کے لوگ کھیتی کرتے ہیں اس کے پانی مین مَائِهَا قَالَ أَخْبِرُونِي عَنْ نَبِي الأمين ما ہے۔اس نے کہا مجھ کو خبر دو عرب سے پیغمبر سے ؟ انھوں نے کہادہ