مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 365 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 365

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 365 عکس حوالہ نمبر : 126 دقبال کی قوت و شوکت اور خر دقبال کی حقیقت فتنوں اور قیامت کی نشانیاں کا بیان سَمِعْتُ بَدَاء الْمُنَادِي صَادِي رَسُول اللہ ﷺ طرف نکلی اور میں نے رسول اللہ کے ساتھ نماز پڑھی۔میں اس يُنَادِي الصَّلاةَ جَامِعَة فَخَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ صف میں تھی جس میں عورتیں تھیں لوگوں کے پیچھے۔جب آپ فَصَلَّيتُ مَعَ رَسُول الله صلى الله علیه وسلم نے نماز پڑھ لی تو منبر پر بیٹھے اور آپ جنس رہے تھے۔آپ نے فكنتُ فِي صَفًّ النِّسَاءِ التي تلي ظهور القَوْم فرمایا ہر ایک آدمی اپنی نماز کی جگہ پر رہے پھر فرمایا تم جانتے ہو فلما قضى رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلہ میں نے تم کو کیوں اکٹھا کیا ؟ وہ بولے اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا صفاته جلس على المنبرِ وَهُوَ يُضْحَكُ فَقَالَ ہے۔آپ نے فرمایا قسم خدا کی میں نے تم کو رغبت دلانے یاڈرانے لِيَلْزَمْ كُلَّ إِنْسَانِ مُصَلاهُ (( نہ خالی کے لیے جمع نہیں کیا بلکہ اس لیے جمع کیا کہ تمیم داری ایک نصرانی اندرُون لِمَ جَمَعْتُكُمْ قَالُو، اللہ ورسولہ تھاوہ آیا اور اس نے بیعت کی اور مسلمان ہوا اور مجھ سے ایک حدیث أعلم قال إني والله ما جَمَعَكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلَا بیان کی جو موافق پڑی اس حدیث کے جو میں تم سے بیان کیا کرتا تھا لرهبة ولَكِن حَمَعَكُمْ لِأَنَّ تميم الداري كان رجال کے باب میں۔اس نے بیان کیا کہ وہ شخص یعنی تمیم سوار ہوا رَجُلًا نَصْرَائيا فَجَاءَ فَتابَعَ وأَسْلَمَ وَحَدَّتَنِي سمندر کے جہاز میں تمہیں آدمیوں کے ساتھ جو لخم اور جذام کی قوم حدِيثًا وَافَقَ الَّذِي كُنتُ أَحَدَّتُكُمْ عَنْ مسیح سے تھے۔سو ان سے ایک مہینہ بھر لہر کھیلا سمندر میں (یعنی شدت الدَّجَّالِ حَدَّتَنِي أَنَّهُ رَكِبَ في سفينة بحرية موج سے جہاز تاور ہا)۔پھر وہ لوگ جانگے سمندر میں ایک ٹاپو کی مَعَ ثَلَاثِينَ رَحْنَا مِنْ لَحْمِ وَحْدَامَ فَلَعِب بهم طرف سورج ڈو ہے۔پھر جہاز سے پلوار (یعنی چھوٹی کشتی) میں الموج شَهْرًا فِي الْبَحْرِ ثُمَّ أَركُوا إِلَى جزيرة بیٹھے اور تاپو میں داخل ہوئے۔وہاں ان کو ایک جانور بھار کی دم بہت في البحر حتى مَغرِب الشَّمْسِ فَعَلَسُوا في بالوں والا ملا کہ اس کا آگا پیچھا دریافت نہ ہو تا تھا بالوں کے ہجوم أَقْرَبُ السَّفِينَةِ فَدَخَلُوا الْجَزِيرَةَ فَلَقِيتُهُمْ دابة ہے۔تو لوگوں نے اس سے کہا اے کمبخت تو کیا چیز ہے ؟ اس نے کہا أهلَبُ كَثِيمُ الشَّعَرِ لَا يَدْرُونَ مَا قُبُلُهُ مِنْ دُبُرِهِ میں جاسوس ہوں۔لوگوں نے کہا جاسوس کیا؟ اس نے کہا اس مِنْ كَثرَةِ الشَّعَرِ فَقَالُوا وَيُلَكِ مَا أَنتِ فقالت مرد کے پاس چلو جو دیر میں ہے اس واسطے کہ وہ تمہاری خبر کا بہت أَنَا الْجَسَّاسَةُ قَالُوا وَمَا الْجَسَّاسَةُ قالت أيُّها مثال ہے۔تمیم نے کہا جب اس نے مرد کا نام کیا تو ہم اس جانور انْطَلِقُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فِي الدَّيْرِ فَإِنَّهُ سے ڈرے کہ کہیں شیطان نہ ہو۔تمیم نے کہا پھر ہم چلے دوڑتے إلى خبركم بالأشواقِ قَالَ لَمَّا سنت لنا یہاں تک کہ دیر میں داخل ہوئے۔دیکھا تو وہاں ایک بڑے قد کا سَمَّتْ للہ کے سوا چھوٹے دجال بہت اس امت میں ہوئے ہیں جنھوں نے لوگوں کو بھڑکایا اور راہ راست سے اگر گادیا۔ہمارے زمانہ میں علی گڑھ میں ایک شخص ظاہر ہوا جو اپنے تین سید کہتا ہے اس نے وہ گمراہی پھیلائی کہ معاذ اللہ فرشتوں کا اور قیامت کا اور جنت اور دوزخ اور تمام معجزات کا اس نے انکار کیا۔مسلمانوں کو نصارٹی کے طریق پر چلنے کی ترغیب دی۔حدیث شریف کا تو بالکل انکار کیا کہ قابل اعتبار نہیں ہے اور قرآن کی ایسی تاویں کی جو تحریف سے بد تر ہے۔خدا اس کے شرسے بچے مسلمانوں کو بچارے اور راہ راست پر شریعت کی قائم رکھے۔٤٥٩