مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 12 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 12

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 12 عکس حوالہ نمبر : 1 واقعہ معراج اور رسول اللہ ﷺ کا بلند مقام ا كتاب الرد على الجهمية وغيرهم / ۳۹۰۱) باب: جنت والوں سے اللہ تعالی کا کلام کرنا / حدیث: (۷۰۲۹ ) ۳۳۵ دل، کان، نگاہ اور بدن سب کمزور ہیں پس ہم سے اور کم کر دیجئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے محمد (ن ) حضور بچے نے فرمایا لبيك وسعديك اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے نزدیک قول بدلا نہیں جاتا جیسا کہ میں نے تم پر ام الکتاب (لوح محفوظ ) میں فرض کیا ہے اور فرمایا ہر نیکی کا ثواب اس کا دس گنا ہے ہیں یہ ام الکتاب (لوح محفوظ) میں پچاس نمازیں ہیں اور وہ تم پر پانچ ہیں پھر حضور پہلے یہ موسیٰ علیہ السلام کی طرف واپس لوٹے تو موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا کیا ہوا؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ہم سے یہ تخفیف کی کہ ہر نیکی کے بدلے دس کا ثواب ملے گا موسیٰ علیہ السلام نے کہا واللہ میں نے بنی اسرائیل کو اس سے کم پر آزمایا ہے لیکن انہوں نے چھوڑ دیا آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیے اور اس سے بھی کم کرایے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے موسیٰ اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے بار بار آجا چکا ہوں تو جبرئیل علیہ السلام نے کہا تو پھراللہ تعالی کا نام لے کر اتر جائے اور حضور اقدس بھی ہے بیدار ہوئے درانحالیکہ آپ مسجد حرام میں تھے۔تشريح اى استقيظ من تومة نامها بعد الاسراء او انه افاق مما كان فيه مما خامر باطنه من مشاهدة الملا الاعلى فلم يرجع الى حال بشريته الا هو نائم (قس) یعنی بیدار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ یہ معراج کے بعد واپس آکر اپنی جگہ مسجد حرام میں آکر سو گئے ہوں گے یا یہ مطلب ہے کہ طلا اعلیٰ کے مشاہدہ سے معراج کی وہ حالت جاتی رہی اور حالت بشریت میں آگئے ، مزید کے لیے عمدہ اور فتح دیکھئے۔مطابقة للترجمة مطابقة الحديث للترجمة توخد من قوله : وموسى في السابعة بتفضيل كلام الله۔تعد موضعه والحديث هنا ص: ۱۱۲۰ تاص: ۱۱۲۱، ومر الحدیث ص: ۵۰ تا ص:۵۱ ، وص: ۲۲۱ ، وص: ۴۵۵ تا ص: ۴۵۶، وص : ۴۷۰ قاص: ۴۷۱ ، وص: ۴۸۱ ، وص: ۴۸۷ تا ص: ۴۸۸ ، وص: ۵۴۸ تاص : ۵۵۰ - باب كَلَامِ الرَّبِّ مَعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ جنت والوں سے اللہ تعالیٰ کا کلام کرنا ( یعنی جنت میں ) (قس) ٧٠٢٩ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّلَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّلَنِي مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللهَ يَقُولُ لِأهْلِ الْجَنَّةِ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ فَيَقُولُونَ لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ فَيَقُولُ هَلْ رَضِيتُمْ فَيَقُولُونَ وَمَا لَنَا لَا تَرْضَى يَا رَبِّ وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ فَيَقُولُ ألا أُعْطِيكُمْ أفْضَلَ مِنْ ذلِكَ فَيَقُولُونَ يَا رَبِّ وَأَي جلد میزوهم نهر الباری