مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 287 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 287

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 287 عکس حوالہ نمبر: 96 خلافت علی منہاج النبوۃ کی پیشگوئی کا پورا ہونا شد اما اتمهای بی من به سترام المسند الكوفيين عا گا، پھر جب اللہ چاہے گا اسے بھی اٹھا لے گا، اس کے بعد علم کی حکومت ہوگی اور وہ بھی اس وقت تک رہے گی جب تک منظور خدا ہوگا، پھر جب اللہ چاہے گا اسے بھی اٹھا لے گا، پھر طریقہ نبوت پر گامزن خلافت آ جائے گی پھر نہیں پناہ خاموش ہو گئے۔راوی حدیث حبیب کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن عبد العزیز خلیفہ مقرر ہوئے تو یزید بن نعمان میں ان کے مشیر بنے ، میں نے یزید بن نعمان کو یاد دہانی کرانے کے لئے خط میں یہ حدیث لکھ کر بیجھی اور آخر میں لکھا کہ مجھے امید ہے کہ امیر المومنین کی حکومت کان کھانے والی اور قلم کی حکومت کے بعد آئی ہے، یزید بن نعمان نے میرا یہ خط امیر المؤمنین کی خدمت میں پیش کیا جسے پڑھ کر وہ بہت مسرور اور خوش ہوئے۔( ١٨٥٩٧ ) حدك يُونُسُ حَدَانَا لَيْتُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ كَثِيرٍ الْهَمْدَانِيِّ اللَّهُ حَدَلَهُ أَنَّ الشَّرِئَ بَنَ إِسْمَاعِيلَ الْكُوفِيُّ حَدَّلَهُ أَنَّ الشَّى حَدَّلَهُ اللهُ سَمِعَ النعمان بن النُّعْمَانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ الْحِنْطَةِ عَمَرًا وَمِنْ النَّعِيرِ خَمْرًا وَمِنْ الرَّيبِ عَمَرًا وَمِنَ التَّمْرِ خَمْرًا وَمِنَ الْعَمَلِ خَمْرًا وأنا أنهَى عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ [قال الترمذي: غريب۔وقال الألباني: صحيح (ابو داود: ٣٦٧٦ و ٣٦٧٧، ابن ماجة: ٣٣٧٩، الترمذي: ۱۸۷۲ و ۱۸۷۳)]۔(راجع: ١٨٥٤٠] (۱۸۵۹۷) حضرت نعمان منہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا شراب کشمش کی بھی بنتی ہے، کھجور کی بھی گندم کی بھی، جو کی بھی اور شہد کی بھی ہوتی ہے اور میں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں۔( ١٨٥٨٨) حَدَّنَا حَسَن وَبَهْرُ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنِ النَّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ الله عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَافَرَ رَجُلٌ بِأَرْضِ لَذُوقَةٍ قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِينِهِ يَعْنِي ثَلَاةً فَقَالَ تَحْتَ شَجَرَةٍ وَمَعَهُ رَاحِلَ وَعَلَيْهَا سِقَارُهُ وَطَعَامُهُ فَاسْتَيْقَظَ فَلَمْ يَرَهَا فَعَلَا خَرَكًا فَلَمْ يَرَهَا ثُمَّ عَلَا شَرَفًا فَلَمْ يَرَهَا ثُمَّ الْتَفَتَ فَإِذَا هُوَ بِهَا تَجْرٌ خِطَامَها فَمَا هُوَ بِاشَدُّ بِهَا فَرَحًا مِنْ اللَّهِ بِنَوْيَةِ عَبْدِهِ إِذَا تَابَ قَالَ بَهُ عَبْدِهِ إِذَا تَابَ إِلَيْهِ قَالَ يَهْزُّ قَالَ حَمَّادٌ اللَّه عَنْ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (اخرجه الدارمي (۲۷۳۱ والطبالي (٧٩٤) قال شعيب صحيح لغيره۔وهذا استاد اختلف في رفعه ووقفه ] [ انظر: ١٨٦١٣]۔(۱۸۵۹۸) حضرت نعمان نیند سے غالباً مرفوعا مردی ہے کہ ایک آدمی کسی جنگل کے راستے سفر پر روانہ ہوا راستے میں وہ ایک درخت کے نیچے قیلولہ کرے، اس کے ساتھ اس کی سواری بھی ہو جس پر کھانے پینے کا سامان رکھا ہوا ہو ، وہ آدمی جب سو کر اٹھے تو اسے اپنی سواری نظر نہ آئے اور ایک بلند نیلے پر چڑھ کر دیکھے لیکن سواری نظر نہ آئے ، پھر دوسرے نیلے پر چڑ ھے لیکن سواری نظر نہ آئے، پھر پیچھے مڑکر دیکھے تو اچانک اسے اپنی سواری نظر آ جائے جو اپنی لگام گھسیٹتی چلی جاری ہو، تو وہ کتنا خوش ہو گا لیکن اس کی یہ خوشی اللہ کی اس خوشی سے زیادہ نہیں ہوتی جب بندہ اللہ کے سامنے تو بہ کرتا ہے اور اللہ خوش ہوتا ہے۔(٧٥٩٩ ) حَدَّلْنَا عَفَّانُ حَدَّلْنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ ْبنِ الْمُنتَشِرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ