مسیح اور مہدیؑ — Page 286
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں مسندامام احمد بن فضیل و سینه مترجم 286 عکس حوالہ نمبر: 96 خلافت علی منہاج النبوۃ کی پیشگوئی کا پورا ہوتا لمسند الكوفيين کے عوض اپنا دین فروخت کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔( woo) حَذَلنَا عَلِيُّ بْنُ عَامِمٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَاءِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النَّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ جَانَتْ امْرَأَةٌ إِلَى الأَعمَانِ بْن بَشِيرٍ فَقَالَتْ إِنَّ زَوْجَهَا وَقَعَ عَلَى جَارِيَّتِهَا فَقَالَ سَأَلْفِي فِي ذَلِكَ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كُنْتِ احْلَلْتِهَا لَهُ ضَرَبْتُهُ مِائَةَ سَوطٍ وَإِنْ لَمْ تَكُونِي أَحْلَلْنِيهَا لَهُ رَجَمْتُهُ (راجع: ١٨٥٨٧) (۱۸۵۹۵) حبیب بن سالم بین یہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت نعمان بھی فون کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس کی بیوی نے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانا اپنے شوہر کے لئے حلال کر دیا تھا ، انہوں نے فرمایا کہ میں اس کے متعلق ہی مہینہ والا فیصلہ ہی کروں گا، اگر اس کی بیوی نے اسے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی ہوگی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر اجازت نہ دی ہو تو میں اسے رجم کر دوں گا ، ( معلوم ہوا کہ اس کی بیوی نے اجازت دے رکھی تھی اس لئے انہوں نے اسے سو کوڑے لگائے )۔(١٨٥٩٦) حَدَّتَنَا سُلَيْمَانُ بن دَاوُدَ الطَّائِيسِيُّ حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ سَالِمٍ عَنِ النَّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ كُتُمُودًا فِي الْمَسْجِدِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ بَشِيرٌ رَجُلًا يَكُتُ حَدِيدَهُ فَجَاءَ أَبو تَعْلَبَةَ الْحُشَبِيُّ فَقَالَ يَا بَشِيرُ بْن سَعْدٍ الحُفَظُ حَدِيث رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الأَمَرَاءِ فَقَالَ حُذَيْقَةُ انا احفَظْ خَطْبَتَهُ فَجَلَسَ أبو فعلية لقَالَ حُذَيْفَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكُونُ النبوة فِيكُمُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَن تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا ثُمَّ تَكُونُ خِلَاقَةٌ عَلَى النبوة لتكون ما۔لحكونَ مَا شَاءَ الله أن تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ اللَّهُ أَن يُرْفَعَهَا ثُمَّ تَكُونُ مُلَكًا عَامَّا لَيَكُونُ مَا شاء الله أن يكون رفعهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا ثُمَّ تَكُونُ مُلكًا عَبريَّةٌ فتكون مَا شَاءَ الله أن : تكون ثُمَّ يَرْقعها إذا شاء أن تكُونُ خِلاقَةٌ عَلَى الخبرة ثُمَّ سَكَتَ قَالَ حَبيبٌ فَلَمَّا قَامَ : الْعَزِيزِ وَكَانَ يَزِيدُ بْنُ النَّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ فِي صَحَاتِتِهِ فَكَتَبْتُ إِلَيْهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَذَكَرُهُ إِيَّاهُ فَقُلْتُ لَهُ إِنِّي أرجو أن يَكُونَ أمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ يَعْنِي عُمَرَ بَعْدَ الْمُلْكِ الْعَاضُ وَالْجَرِيَّةِ فَأُدْخِلَ كِتَابِي عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَسُرَّ بِهِ وَأَعْجَبَهُ عبد (۱۸۵۹۶) حضرت نعمان بینہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، بشیر اپنی احادیث روک کر رکھتے تھے ، ہماری مجلس میں ابو ثعلبہ محسنی بھی ہیں آئے اور کہنے لگے کہ اے بشیر بن سعد ! کیا امراء کے حوالے سے آپ کو نبی مدینہ کی حدیث یار ہے؟ حضرت حذیفہ میں یہ فرمانے لگے کہ مجھے ہی ان کا خطبہ یاد ہے ، حضرت ابو نعلبہ بھی میں بیٹھ گئے اور حضرت حذیفہ بھی یوں کہئے لگے کہ جناب رسول اللہ اللہ نے ارشاد فرمایا جب تک اللہ کو منظور ہو گا تمہارے درمیان نبوت موجود رہے گی، پھر اللہ اسے اٹھانا چاہے گا تو اٹھا لے گا ، پھر طریقہ نبوت پر گامزن خلافت ہوئی اور وہ اس وقت تک رہے گی جب تک اللہ کو منظور ہوگا ، پھر جس اللہ اسے اٹھانا چاہے گا تو اٹھالے گا، پھر کاٹ کھانے والی حکومت ہوگی، اور وہ بھی اس وقت تک رہے گی جب تک اللہ کو منظور رہو