مسیح اور مہدیؑ — Page 264
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 264 عکس حوالہ نمبر : 88 ار کتاب المناقب / باب: اسلام میں نبوت کی علامتوں کا بیان / حدیث : ( ۳۳۶۴) مطابقة للترجمة مطابقة الحديث للترجمة ظاهرة۔تعد موضعه و الحديث هنا ص ۵۰۹ ، وياتي في الفتن ص ۱۰۳۶ مسلمانوں کی فرقہ بندی اور ناجی فرقہ ۶۲۹ تحقيق وتشريح الصادق في نفسه والمصدوق من عندا الله، غلمة بكسرا لغين جمع غلام جمع قلة۔یہاں اختصار ہے کتاب الفتن ص ۱۰۴۶ار میں ہے فقال مروان لعنة الله عليهم غلمة ( ان پر اللہ کی لعنت ہو نوجوان؟ ) ان شئت مروان کو خطاب ہے اور بعض روایت میں ہے ان شئتم ہے اس صورت میں خطاب مروان و من کان معہ کو ہوگا۔علامہ قسطلانی نقل کرتے ہیں ان ابا هريرة كان يمشى فى السوق ويقول اللهم لاتدركني سنة ستين ولا امارة الصبيان (قس) لا میں جب حضرت معاویہ کا انتقال ہوا تو یزید پھر بادشاہ ہوا اس کی شرارت دتباہی کے لئے حرہ کا واقعہ شاہد ہے نیز مروان بھی ان مفسدین میں داخل ہے واللہ اعلم۔۳۳۹۴ و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسى حدثنا الوليد حدثنِي ابْنُ جَابِرٍ حَدَّثَنِي بُسْرٌ مِنْ عُبَيْدِ اللهِ الحَضْرَمِي حَدَّثَنِي أَبُو ادريس الخولاني أنه سمع حُذَيْفَةَ مِنَ اليَمَانِ يَقولُ كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الخير وكُنتُ أسْأَلُهُ عن الشر مخافة ان يُدركني فقلت يارسول الله إنا كنا فى جاهلية وشر فجائنا الله بهذا الخير فهل بَعْد هذا الخَيْرِ مِنْ شَرِّ قال نعم قلتُ وَهَلْ بَعْدَ ذلك الشَّرُ مِنْ خَيْرٍ قَالَ نَعَمْ وَفِيهِ دَخَنٌ قلتُ وَمَا دَخنُهُ قال قوم يَهْدُونَ بغَير هذبي تعرف منهم وتنكر قلت يا رسول الله! فهل بعد ذلك الخير من شرّ قال نعم دعاة الى ابواب جهنم من اجابهم اليها قذفوه فيها قلت يارسول اللهِ صِفهم لنا فقال هم من جلدتنا ويتكلمون بالسنتنا قلتُ فَمَاتَا مُرُنِي انْ أدْرَكَنى ذلك قال تَلْزَم جماعة المُسلمين وامامهم قلت فان لم يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إمامٌ قال فَاعْتَزِلُ تِلك الفرق كلها ولو ان تعض باصل شَجَرَةٍ حتى يُدركك الموتُ وَانتَ عَلى ذلِك۔ترجمعہ حضرت حذیفہ بن یمان بیان کرتے ہیں کہ دوسرے صحابہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شر کے متعلق (یعنی اس فتنہ اور بدعات کے متعلق جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہونے والے ہیں ) پوچھا کرتا تھا اس خوف سے کہ کہیں میں ان میں پھنس نہ جاؤں تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم جاہلیت اور شر (برائی ) میں تھے پھر اللہ تعالی نے ( آپ کو بھیج کر ہمیں یہ خیر ( اسلام ) عطافرمائی ، اب کیا اس خیر کے بعد پھر شر (برائی ) کا زمانہ آئے گا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں میں نے عرض کیا اس شہر کے بعد خیر کا زمانہ آئے گا؟ نصر الباری جلد هفتم