مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 183 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 183

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 183 موعود امام - اُمت محمدیہ کا ایک فرد پہلے ہے اس لئے امام کا لفظ بھی اسی کے حق میں ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ اس جگہ مِنكُمُ کے لفظ سے صحابہ کو خطاب کیا گیا ہے اور وہی مخاطب تھے۔لیکن ظاہر ہے کہ اُن میں سے تو کسی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔اس لئے منکم کے لفظ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو خدا تعالیٰ کے علم میں قائم مقام صحابہ ہے اور وہ وہی ہے جس کو اس آیت مفصلہ ذیل میں قائم مقام صحابہ کیا گیا ہے یعنی یہ کہ وَآخَرِينَ مِنْهُمُ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ کیونکہ اس آیت نے ظاہر کیا ہے کہ وہ رسول کریم ﷺ کی روحانیت سے تربیت یافتہ ہے۔“ صلى الله ( تحفہ گولڑو یہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 114-115 ایڈیشن 2008) 2۔غرض اس حدیث امامکم منکم سے ثابت ہے کہ آنے والا مسیح ہرگز اسرائیلی نبی نہیں ہے بلکہ اسی امت میں سے ہے جیسا کہ ظاہر نص یعنی امامکم منکم اس پر دلالت کرتا ہے اور اس تکلف اور تاویل کے لئے کہ حضرت عیسی آکر اُمتی بن جائیں گے اور نبی نہیں رہیں گے کوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔اور عبارت کا حق ہے کہ قبل وجود قرینہ اس کو ظاہر پر حمل کیا جائے ورنہ یہودیوں کی طرح ایک تحریف ہوگی۔غرض یہ کہنا کہ حضرت عیسی بنی اسرائیلی دنیا میں آکر مسلمانوں کا جامہ پہن لے گا اور امتی کہلائے گا یہ ایک غیر معقول تاویل ہے جو قوی دلائل چاہتی ہے۔تمام نصوص حدیثیہ اور قرآنیہ کا یہ حق ہے کہ اُن کے معنے ظاہر عبارت کے رُو سے کئے جائیں اور ظاہر پر حکم کیا جائے جب تک کہ کوئی قرینہ صارفہ پیدا نہ ہو اور بغیر قرینہ قویہ صارفہ ہرگز خلاف ظاہر معنے نہ کئے جائیں اور امامكم منکم کے ظاہری معنی یہی ہیں جو وہ امام اسی امت محمدیہ میں پیدا ہو گا۔“ تحفہ گولڑو یہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 118 ایڈیشن 2008) 3۔اب بجز محمد کی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں۔شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہوسکتا ہے مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔پس اسی بناء پر میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔" تجلیات الہیہ روحانی خزائن جلد 20 ص 412 ایڈیشن 2008) -4 " صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 ص 154 ایڈیشن 2008)