مشاغل تجارت اور حضرت خدیجہ ؓ سے شادی

by Other Authors

Page 21 of 31

مشاغل تجارت اور حضرت خدیجہ ؓ سے شادی — Page 21

۲۱ اب تم آزاد ہو مگر حضرت زید نے عرض کیا ہو محبت اور اخلاص میں نے آپ میں دیکھا ہے اس کی وجہ سے آپ مجھے سب سے زیادہ پیارے ہیں۔زید ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتے تھے لیکن چھوٹی عمر میں اُن کو ڈاکو اٹھا لائے اور انہوں نے آپ کو آگے بیچ دیا اس طرح پھرتے پھراتے وہ حضرت خدیجہ کے پاس آگئے۔آپ کے باپ اور چا کو بہت فکر ہوا اور وہ آپ کی تلاش میں نکلے۔۔۔۔۔وہ آپ کے پاس آئے اور آگہ کہا کہ ہم آپ کے پاس آپ کی شرافت اور سخاوت سن کر آئے ہیں۔آپ کے پاس ہمارا بیٹا غلام ہے۔اس کی قیمت جو کچھ آپ مانگیں دینے کو تیار ہیں آپ اُسے آزاد کر دیں اُس کی ماں بڑھیا ہے اور وہ جدائی کے صدمہ کی وجہ سے رو رو کر اندھی ہو گئی ہے آپ کا بڑا احسان ہو گا اگہ آپ منہ مانگی قیمت لے کر اُسے آزاد کر دیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔آپ کا بیٹا میرا غلام نہیں ہے میں اُسے آزاد کر چکا ہوں۔پھر آپ نے زید کو بلایا اور فرمایا تمہارے ابا اور چھا تمہیں لیتے آئے ہیں تمہاری ماں بڑھیا ہے اور رو رو کر اندھی ہوگئی ہے میں تمہیں آزاد کر چکا ہوں تم میرے غلام نہیں ہو تم ان کے ساتھ جا سکتے ہو۔حضرت زید نے جواب دیا۔