مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 740 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 740

740 ہماری آئندہ نسلوں کو یہ عزم کر لینا چاہئے کہ وہ یکے بعد دیگرے اسلام کی خدمت کرتے چلے جائیں سلسلہ کا لٹریچر پڑھو۔عام طور پر سلسلہ کالٹریچر چھاپنے والوں کو یہ شکایتیں ہیں کہ لوگ ہم سے کتابیں نہیں لیتے حالانکہ یاد رکھو روٹی نہ لو تو کوئی حرج نہیں لیکن سلسلہ کی کتابیں لینا اور ان کو پڑھنا بڑی اہم چیز ہے۔پس ان کتابوں کو پڑھو تاکہ اپنی زندگی میں خود بھی فائدہ اٹھاؤ اور اپنی بعد میں آنے والی نسلوں کو بھی فائدہ پہنچاؤ۔” ہمارے نوجوان خصوصا جو بچے وغیرہ آئے ہیں ان کو خدا تعالی ایسی توفیق دے کہ وہ جب جلسہ سے اٹھیں تو وہ عمر میں تو بچے ہوں لیکن عقل اور ایمان میں بڑھے ہو چکے ہوں تاکہ ان کے ذریعہ ایک نئی ابراہیمی نسل چیے۔تم میں سے ہر بچہ اگر اپنے دل میں یہ عہد کرلے کہ میں نے ابراہیم بنتا ہے، میں نے علی بننا ہے، میں نے بھی بنتا ہے تو پھر وہی کچھ وہ بن جائے گا"۔" تو تم میں سے ہر بچہ ابراہیمی نمونہ کی نقل کر سکتا ہے۔آخر وہ اس وقت تو دس سال کے قریب ہی کے بچے ہوں گے۔گویا ابراہیم علیہ السلام کے دین کی بنیاد اور ابراہیمی برکتوں کی بنیاد تو دس سال کی عمر میں ہی پڑی پس خدا تمہیں بھی ان باتوں کے سننے کے بعد ابراہیمی ایمان بخشے"۔ابراہیم کی نسل میں بھی ان کے ایک بیٹے سے بارہ امام بنے تھے اسی طرح حضرت علی سے بھی بارہ امام پیدا ہوئے مگر کتنا افسوس ہے کہ بعض مخلصین لوگ فوت ہوتے ہیں تو ان کے بیٹے ہی خراب ہو جاتے ہیں اور بعض کا پوتا خراب ہو جاتا ہے مگر علی کے اندر کیسا ابراہیمی ایمان تھا اور ابراہیم کے اندر کیسا ایمان تھا کہ بارہ نسلوں تک برابر ان میں یہ ذمہ داری کا احساس چلتا چلا گیا کہ ہم نے دین کی خدمت کرنی ہے۔اگر تمہارے بچے بھی یہ ارادہ کر لیں تو پھر کوئی فکر نہیں۔بڑھوں نے تو آخر مرنا ہے۔خدا تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کے زمانہ سے لے کر آج تک ہر ایک کے لئے موت مقرر کی ہوئی ہے مگر جب یہی بچے بڑھے بن جائیں گے تو پھر کوئی فکر نہیں ہوگی کہ دین کا کیا بنے گا۔یہی تو دس سال کے بچے ایسے طاقتور پہاڑ بنیں گے کہ اگر دنیا ان سے ٹکرائے گی تو دنیا کا سر پاش پاش ہو جائے گا مگر یہ اپنے مقام سے نہیں ہٹیں گے اور احمدیت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا کے رہیں گے لیکن یہ سارے کام دعاؤں سے ہو سکتے ہیں۔ہمارے اختیار میں تو خود اپنا دل بھی نہیں ہو تا لیکن خدا کے اختیار میں ہمارا بھی دل ہے ہماری اولادوں کا بھی دل ہے اور اولادوں کی اولادوں کا بھی دل ہے۔ہمیں تو دس بارہ نسلیں کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے کیونکہ نظر تو یہ آتا ہے کہ بارہ تک پہنچنا بھی ہمارے اختیار میں نہیں۔اگر یہ دریا کی لہر ہمارے دہانے