مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 678
678 لئے انہیں بھی علاج کا موقعہ دینا چاہئے۔چنانچہ میں نے ڈاکٹروں اور حکیموں کو اردگرد کے دیہات میں بھجوادیا۔ساتھ مدرسہ احمدیہ کے طالب علم کر دئیے۔وہ سات سات میل تک گئے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ہزاروں آدمیوں کی جان بچ گئی۔تو ہم خدمت خلق کرتے ہیں اور ہمیشہ سے کرتے چلے آئے ہیں مگر ہم ڈھنڈورہ نہیں پیٹتے کہ ہم نے یہ کیا ہے ہم نے وہ کیا ہے۔مثلاً ملکانوں کی جو ہم نے خدمت کی ہے اس کے متعلق ہم نے کچھ نہیں کہا لیکن دوسرے لوگوں نے اقرار کیا کہ ہم نے غیر معمولی کام کیا ہے مگر ہمارے ان سارے کاموں کے باوجودہ دشمن نے پھر بھی یہی کہا کہ یہ شروع سے مسلمانوں کے دشمن ہیں بلکہ بعض عدالتوں نے بھی اس کو تسلیم کر لیا اور یہ خیال نہ کیا کہ تمام مصیبتوں کے وقت ہمیشہ احمدیوں نے ہی اپنی گرد نہیں آگے کی ہیں۔مائی جمیا کی خاطر غیرت اسلامی کا اظہار - جب دلی میں جایا کرتا تھا تو اکثر یوپی کا کوئی نہ کوئی رئیس مجھے ملتا تو کہتا کہ میں تو اس دن سے آپ کا مداح ہوں جس دن آپ لوگوں نے اپنے ہاتھ سے ایک مسلمان عورت کی کھیتی کاٹ کر اسلام کی لاج رکھ لی تھی اور مسلمانوں کی عظمت قائم کر دی تھی۔واقعہ یہ ہے کہ الوریا بھرت پور کی ریاست میں ایک عورت تھی جس کے سارے بیٹے آریا ہو گئے مگر وہ اسلام پر قائم رہی۔مائی جمیا اس کا نام تھا۔خان بہادر محمد حسین صاحب سیشن جج اس علاقہ میں تبلیغ کے لئے مقرر تھے۔ان کا بیٹا نہایت مخلص احمد ی ہے۔وہ آجکل کچھ ابتلاؤں میں ہے اور مالی مشکلات اس پر آئی ہوئی ہیں۔دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کی مشکلات کو دور فرمائے۔بہر حال جب فصل کٹنے کا وقت آیا تو چونکہ سب گاؤں جو بڑا بھاری تھا، آر یہ ہو چکا تھا اور اس کے اپنے بیٹے بھی اسلام چھوڑ چکے تھے اور وہ عورت اکیلی اسلام پر قائم تھی۔اس لئے کوئی شخص اس کی کھیتی کاٹنے کے لئے تیار نہیں تھا۔انہوں نے اسے طعنہ دیا اور کہامائی تیری کھیتی تو اب مولوی ہی کاٹیں گے۔احمدیوں کو دیہات میں مولوی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ قرآن اور حدیث کی باتیں کرتے ہیں۔شروع میں ملکانہ میں بھی ہمارے آدمیوں کو مولوی کہا جاتا تھا جس طرح ہمیں یہاں مرزائی کہتے ہیں اسی طرح وہاں مولوی کہا جاتا تھا۔سرحد اور یوپی میں عام طور پر قادیانی کہتے ہیں۔جب یہ خط مجھے ملا تو میں نے کہا کہ اب اسلام کی عزت تقاضا کرتی ہے کہ مولوی ہی اس کی کھیتی کاٹیں چنانچہ جتنے گریجویٹ اور بیر سٹر اور وکیل اور ڈاکٹر وہاں تھے، میں نے ان سے کہا کہ وہ سب کے سب جمع ہوں اور اس عورت کی کھیتی اپنے ہاتھ سے جا کر کاٹیں چنانچہ در جن یا دو درجن کے قریب آدمی جمع ہوئے جن میں وکلاء بھی تھے ڈاکٹر بھی تھے اگر بجو انیس بھی تھے علماء بھی تھے اور انہوں نے کھیتی کاٹنی شروع کر دی۔لوگ ان کو دیکھنے کے لئے اکٹھے ہو گئے اور تمام علاقہ میں ایک شور مچ گیا کہ یہ ڈاکٹر صاحب ہیں جو کھیتی کاٹ رہے ہیں۔یہ حج صاحب ہیں جو کھیتی کاٹ رہے