مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 672 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 672

672 اپنے اندر یک جہتی پیدا کرو اور خدمت خلق پر زیادہ سے زیادہ زور دو! غالیا پچھلے سال یا پچھلے سے پچھلے سال میں نے خدام کو یہ نصیحت کی تھی کہ یک جہتی اور یک رنگی بھی طبائع پر نیک اثر ڈالتی ہے اور اس کی اہمیت کو اسلام نے اتنا نمایاں کیا ہے کہ نماز جو ایک عبادت ہے اس میں بھی یک رنگی اور نیک جہتی کا حکم دیا ہے۔سب کے سب نمازی ایک طرف منہ کر کے کھڑے ہوتے ہیں۔سیدھی صفوں کا حکم ہو تا ہے اور تمام کے تمام نمازیوں کو ایک خاص شکل پر کھڑے ہونے کا ارشاد ہوتا ہے۔میں نے توجہ دلائی تھی کہ خدام جو کھڑے ہوتے ہیں تو مختلف شکلوں میں کھڑے ہوتے ہیں اور میں نے کارکنوں سے کہا تھا کہ وہ اس کی اصلاح کر ہیں۔اُس وقت تو تقریر کے بعد ایک دو دن تو اصلاح نظر آئی۔مگر پھر وہ اصلاح نظر نہیں آئی۔چنانچہ اب میں دیکھتا ہوں کہ سارے کے سارے اس رنگ میں رنگے ہوئے ہیں کہ کچھ تو تم میں سے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہیں کچھ تم میں سے پیچھے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہیں۔کچھ تم میں سے ہاتھ کھلے چھوڑ کر کھڑے ہیں جس کے معنے یہ ہیں کہ تم نے کوئی ایک طریقہ اپنے لئے پسند نہیں کیا اور تمہارے افسروں اور کارکنوں نے تمہیں یک رنگ اختیار کرنے کی ہدایت نہیں دی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ باتیں معمولی ہیں مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ان باتوں کا قلوب پر اثر پڑتا ہے مثلا صف میں کسی کا پیراگر ذرا آگے ہو جائے یا پیچھے ہو جائے تو یہ ایک معمولی بات ہے اور جہاں تک عبادت کا تعلق ہے اس سے کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی مگر رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ جس قوم کی صفیں ٹیڑھی ہو گئیں اس کے دل بھی ٹیڑھے کر دیئے جاتے ہیں۔تو دیکھو ایک چھوٹی سی بات کا کتنا عظیم الشان نتیجہ پیدا ہو سکتا ہے۔پھر دیکھنے والوں پر بھی اس کا اثر ہوتا ہے چنانچہ ہم نوجوں کو دیکھتے ہیں تو سب فوجی ایک ہی شکل میں نظر آتے ہیں۔یورپ میں فوجوں کو مار چنگ کے وقت خاص طور پر ہدایت ہوتی ہے کہ سارے فوجی ایک طرح سے چلیں، پیروں کے متعلق ہدایت ہوتی ہے کہ اس طرح پیر مارنا ہے۔سینہ کے متعلق ہدایت ہوتی ہے کہ اتنا سینہ تاننا ہے۔گردن کے متعلق ہدایت ہوتی ہے کہ اس طرح گردن رکھتی ہے اور اس کا دیکھنے والوں پر گہرا اثر پڑتا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں ایک مسلمان آیا تو اس نے اپنی گردن جھکائی ہوئی تھی۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ مارا اور فرمایا کہ اسلام اپنے جوبن پر ہے پھر تو اس طرح اپنی مردہ شکل کیوں بنائے ہوئے ہے۔تو حقیقت یہ ہے کہ انسان کی ظاہری شکل اس کے باطن پر دلالت کرتی ہے اور اس کی باطنی حالت کا اس کے ہمسایہ پر اثر پڑتا ہے۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں مَنْ قَالَ هَلَكَ الْقَوْمُ فَهُوَ اهْلَكُهُم جس شخص نے یہ کہا کہ قوم ہلاک