مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 673 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 673

673 ہو گئی وہی ہے جس نے قوم کو ہلاک کیا کیونکہ اس کی بات کا ہمسایہ پر اثر پڑتا ہے۔جب ایک شخص کہتا ہے کہ سارے بے ایمان ہو گئے۔سارے بد دیانت ہو گئے تو بیسیوں آدمی ایسے ہوتے ہیں جو صرف اس کی بات پر اعتبار کر لیتے ہیں۔حقیقت نہیں دیکھتے وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ فلاں نے کہا ہے کہ سب بے ایمان ہو گئے ہیں یا فلال نے کہا ہے کہ سب بد دیانت ہو گئے ہیں اور چونکہ فلاں نے یہ بات کہہ دی ہے اس لئے اب کے ماننے میں کیا روک ہے۔ان کی مثال بالکل ویسی ہی ہوتی ہے جیسے مشہور ہے کہ ایک شخص اپنے گھر سے بہت دیر غائب رہا۔اس کی بیوی بچے اسے خط لکھتے کہ آؤ ہمیں مل جاؤ مگر وہ نہ آتا۔وہ سمجھتا تھا کہ اگر میں گیا تو میری تنخواہ کٹ جائیگی۔وہ تھا بیوقوف۔آخر جب لمبا عرصہ گذر گیا تو لوگوں نے اس کی بیوی بچوں کو سمجھایا کہ یہ طریق درست نہیں ہم اسے بلواتے ہیں چنانچہ پنجوں نے اسے خط لکھا کہ تمہاری بیوی بیوہ ہو گئی ہے اور تمہارے بچے یتیم ہو گئے ہیں اس لئے تم جلدی گھر پہنچو۔وہ عدالت کا چپڑاسی تھا۔خط ملتے ہی عدالت میں روتا ہوا گیا اور کہنے لگا۔حضور مجھے چھٹی دیں۔انہوں نے کہا کیا ہوا ؟ کہنے لگا۔خط آیا ہے کہ میری بیوی بیوہ ہو گئی ہے اور بچے یتیم ہو گئے۔وہ کہنے لگے۔احمق تو تو زندہ موجود ہے پھر تیری بیوی کس طرح بیوہ ہو گئی اور تیرے بچے کس طرح یتیم ہو گئے۔وہ خط نکال کر کہنے لگا کہ آپ کی بات تو ٹھیک ہے لیکن دیکھئے پانچ پنچوں کے اس پر دستخط ہیں۔پھر یہ بات جھوٹی کس طرح ہو گئی۔قوموں کے زوال کی نفسیات۔تو ایسے لوگ بھی دنیا میں ہوتے ہیں اور در حقیقت یہی قوم کو تباہ کرنے کا موجب ہوتے ہیں۔کہتے ہیں دس نے یہ کہا اور یہ نہیں دیکھتے کہ حقیقت کیا ہے ؟ اگر دس نے کہا کہ قوم بے ایمان ہو گئی ہے۔اگر دس نے کہا کہ قوم اپنی ذہانت کھو بیٹھی ہے تو وہ اس پر فورا یقین کرلیں گے اور کہنا شروع کر دیں گے کہ واقعہ میں قوم بے ایمان ہو گئی ہے۔ان کی آنکھوں کے سامنے چیز موجود ہو گی مگر وہ اسے دیکھیں گے نہیں۔تو جب ایک شخص کی حالت بگڑتی ہے، اس کے ہمسایہ کی بھی بگڑ جاتی ہے۔اوّل تو جس کے دل کی حالت بگڑتی ہے اس کی زبان پر کچھ نہ کچھ آجاتا ہے اور سنے والوں میں سے کمزور لوگ اس کی باتوں سے متاثر ہو جاتے ہیں اور اگر ایسا نہ ہو تب بھی اللہ تعالیٰ نے یہ قانون بنایا ہے کہ انسان کے قلب سے ایسی شعاعیں نکلتی ہیں کہ جو ارد گرد بیٹھنے والوں پر اثر کرتی ہیں اسی لئے قرآن کریم کہتا ہے کہ کو نوامع الصادقین - تم صادق اور راستباز لوگوں کی صحبت میں رہا کرو اور اسی لئے اللہ تعالیٰ نے نماز با جماعت مقرر کی ہے تا دلی اثرات ایک دوسرے پر پڑیں۔یوں تو نیک کے بھی اثرات ہوتے ہیں اور بد کے بھی اثرات ہوتے ہیں مگر جب قوم میں نیکی ہوتی ہے تو نیک اثرات کا غلبہ ہوتا ہے اور جب قوم میں بدی ہوتی ہے تو بد اثرات کا غلبہ ہوتا ہے۔گوبدی میں چونکہ امتا جوش نہیں ہو تا جتنا نیکی میں ہو تا ہے۔جو زمانہ انبیاء ومامورین میں ہوتی ہے اس لئے جتناوہ نیکی اپنے اثر کو پھیلاتی ہے بدی اپنا اثر نہیں پھیلا سکتی لیکن پھر بھی اس کا