مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 657 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 657

657 اصلاح پیدا کرنی چاہئے۔میں نے پہلے بھی جماعت کو توجہ دلائی ہے اور اب پھر توجہ دلاتا ہوں کہ تمہاری غرض نعرے اور کبڈیاں نہیں۔نعرے اور کبڈیاں بالکل بے کار ہیں۔یہ نعرے اور کبڈیاں تو محض ایسے ہی ہیں جیسے کوئی شخص کپڑے پہنے تو ان پر فیتے سے اپنا نام بھی لکھوالے۔یہ بیکار چیزیں ہیں۔تم نمازوں اور دعاؤں میں ترقی کرو اور نہ صرف خود ترقی کرو بلکہ ہر شخص اپنے ہمسایہ کو دیکھے اور اس کی نگرانی کرے تاکہ ساری جماعت اس کام میں لگ جائے۔تم حسد کی عادت پیدا نہ کرو بلکہ آپس میں تعاون کی روح پیدا کرو - خدام الاحمدیہ کی تنظیم تمہاری لئے ٹرینگ کے طور پر ہے تا کہ جب تمہیں خدمت کا موقعہ ملے تو تم میں اتنی قابلیت ہو کہ تم امیر بن جاؤ یا سیکر ٹری بن جاؤ اس لئے تمہیں جماعت کے عہدہ داروں سے بجائے ٹکراؤ کے تعاون سے کام لینا چاہئے لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض جگہ خدام الاحمدیہ کی تنظیم اور جماعت کی دوسری تنظیموں میں ٹکراؤ پیدا ہو گیا۔پھر جو لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کا امیر اچھا نہیں خود ان کے متعلق رپورٹیں آتی رہتی ہیں کہ ان کی دینی حالت گر رہی ہے۔پس تم اپنی ذکر الٹی کی عادت اور اخلاص اور نمازوں کو درست کرو۔جب یہ چیزیں درست ہو جائیں گی تو خود بخود لوگ تمہیں آگے لے آئیں گے اور یہ شکوے سب ختم ہو جا ئیں گے۔تم اپنے اندر نماز کی پابندی کی عادت پیدا کرو اور جھوٹ سے لکھی پر ہیز کرو۔جھوٹ ایسی چیز ہے کہ اگر انسان اس کو چھوڑ دے تو اس کی دھاک بیٹھ جاتی ہے۔جھوٹ کو انسان سب سے زیادہ چھپاتا ہے لیکن سب سے زیادہ وہی ظاہر ہوتا ہے۔جھوٹ ایک ایسی بدی ہے کہ عام لوگ اس کو جلدی سمجھ لیتے ہیں اور اگر انہیں دوسرے کو جھوٹا کہنے کی جرات نہ ہو تو وہ کم از کم اپنے دلوں میں یہ بات ضرور لے جاتے ہیں کہ فلاں شخص جھوٹا ہے اور سچ ایک ایسی نیکی ہے کہ منہ پر کوئی شخص بچے انسان کو سچا کے نہ کہے وہ اپنے دل پر یہ اثر لے کر جاتا ہے کہ فلاں شخص سچا اور راست باز ہے - اگر خدام الاحمدیہ یہ کام کرلیں کہ ان کے اندر سچائی کا جذبہ پیدا ہو جائے تو ان کی اخلاقی برتری ثابت ہو جائے گی اور کسی شخص کو ان پر حملہ کرنے کی جرات نہیں ہوگی۔ہر شخص یہی سمجھے گا کہ انہیں ذلیل کرنا بچے کو ذلیل کرنا ہے اور کوئی قوم یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ سچ کو ذلیل کیا جائے۔پھر محنت کی عادت ہے۔دُنیا میں تمام ترقیات محنت سے ملتی ہیں۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ احمدیوں کو رعایتاً عہدے مل جاتے ہیں۔اگر تم کام میں ست ہو گئے تو سننے والوں کو اس بات کا یقین ہو جائے گا اور وہ سمجھیں گے کہ انہیں عہدے محض رعایت کی وجہ سے ملتے ہیں ورنہ ان میں کام کرنے کی قابلیت موجود نہیں لیکن اگر وہ دیکھیں کہ احمدی جان مار کر کام کرتے ہیں اور حکومت اور ملک کو اتنا فائدہ پہنچاتے ہیں جتنا فائدہ دوسرے لوگ نہیں پہنچاتے تو ہر ایک شخص کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ کہنا کہ احمدیوں کو عہدے رعا بتا دے دئیے جاتے