مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 656
656 نے اعلان کیا کہ کراچی میں بھی ایک صدرانجمن احمد یہ ہو گی تا اگر جماعت کا کام کسی وقت معطل ہو جائے تو وہ کام سنبھال سکے کیونکہ مجھے امید تھی کہ جب انہوں نے بغیر ذمہ واری کے اتنا کام کیا ہے تو اگر ان پر ذمہ داری ڈال دی جائے گی تو وہ کام کو وقت پر سنبھال سکے گی۔پنجاب کی جماعتوں کو میرا یہ فعل بر الگا تو انہوں نے احتجاج کیا کہ کراچی میں بھی صدر انجمن بن گئی ہے۔اب تو دو عملی پیدا ہو جائیگی۔میں نے انہیں یہی جواب دیا کہ یہ تو حسد ہے۔جو لوگ کام کریں گے بہر حال وہی آگے لائے جائیں گے اور جو لوگ کام نہیں کریں گے وہ بہر حال گریں گے۔اگر کسی خاندان نے کسی وقت کام کیا ہے تو ہمیں اس سے انکار نہیں لیکن اگر اب وہ کام نہیں کرتے تو سلسلہ انہیں کیوں آگے لائے۔سلسلہ تو انہیں لوگوں کو آگے لائے گا جو ایثار اور قربانی کا اعلیٰ نمونہ دکھا ئینگے۔دوسری جماعتوں اور خاندانوں کو اپناو قار رکھنا مد نظر ہے تو وہ کام کریں اور پھر کام بھی یقین اور تقویٰ سے کریں۔لیکن اگر وہ یہ چاہتے ہیں کہ چونکہ ان کے باپ دادوں نے کام کیا تھا اس لئے انہیں عزت ملنی چاہئے تو یہ غلط ہے۔ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا۔جماعت نے اگر زندہ رہنا ہے تو وہ ایسے وجودوں کو الگ پھینک دے گی۔یہ بے حیائی کی علامت ہے کہ جو کام نہ کرے اسے لیڈر بنالیا جائے۔اگر کسی خاندان نے کسی وقت خدمت کی ہے اور اب ان کی اولاد کام کرنا نہیں چاہتی تو ان خاندانوں کو آگے آنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ ان کی اولاد اب کام کرنا نہیں چاہتی بلکہ وہ یہ چاہتی ہے کہ انہیں محض اس لئے عزت دی جائے کہ ان کے باپ دادوں نے کسی وقت کام کیا تھا۔اب جو کام کریں گے بہر حال وہی آگے آئیں گے اور جو کام نہیں کریں گے وہ آگے نہیں آئیں گے۔میں نے شروع میں بتا دیا تھا کہ مجلس خدام الاحمدیہ کو قائم کرنے کی غرض یہی تھی کہ نوجوان دین میں ترقی کریں اور اس قابل ہو جائیں کہ انہیں عزت دی جائے مگر گذشتہ حالات سے خدام الاحمدیہ نے کوئی زیادہ فائدہ نہیں اٹھایا۔تمہاری غلطیوں کی وجہ سے یا ہماری غلطیوں کی وجہ سے بعض ایسی دیوار میں قائم ہو گئی ہیں کہ اب سوائے خدا تعالیٰ کے کوئی انہیں توڑ نہیں سکتا۔تم اگر یہ سمجھتے ہو کہ ہم تدبیر سے انہیں توڑلیں گے تو یہ غلط ہے۔خدا تعالیٰ ہی انہیں توڑے تو توڑے اور اس کی یہی صورت ہے کہ تم دعائیں کرو، تہجد پڑھو اور ذکر الہی کرو۔یہی ذرائع ہیں جن سے یہ دیوار میں ٹوٹ سکتی ہیں اور کامیابی ہو سکتی ہے۔لیکن افسوس ہے کہ میرے پاس ایسی رپورٹیں آرہی ہیں کہ نوجوانوں میں نماز اور دعا کی اتنی عادت نہیں رہی جتنی پرانے لوگوں میں تھی اور یہ نہایت خطر ناک بات ہے۔تمہارے لئے تو پرانے لوگوں سے زیادہ فتنے ہیں اس لئے پہلوں کے مقابلہ میں تمہارے سامنے زیادہ مشکلات ہیں اور ان کو دور کرنا اور ان کا مقابلہ کرنا تمہارے بس اور قابو میں نہیں اس کا مقابلہ تو وہی کرے گا جو خدا تعالیٰ تک پہنچ سکے اور جب خدا تعالیٰ کسی بات میں دخل دیتا ہے تو وہ آپ ہی آپ حل ہو جاتی ہے۔پس اگر تم نے موجودہ مشکلات کا مقابلہ کرنا ہے تو تمہیں اپنے اندر