مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 650
650 ”ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں زندگی کے ساتھ ساتھ موت کا سلسلہ بھی قائم کیا ہوا ہے۔لوگ پیدا ہوتے ہیں اور ایک عرصہ تک زندگی گزارنے کے بعد مر جاتے ہیں۔موت سے جو ایک خلا پیدا ہوتا ہے اسے پورا کرنا نوجوانوں کا کام ہے۔اگر نوجوانوں کی حالت پہلے لوگوں کی مانند ہو یا ان سے بہتر ہو تو قوم تنزل سے محفوظ رہتے ہوئے ترقی کے راستہ پر بدستور گامزن رہتی ہے لیکن اگر نو جوان ہی قومی کردار کے اعتبار سے معیار پر پورے نہ اترتے ہوں تو پھر قوم کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔سو قوم کی آئندہ ترقی کا دار ومدار نوجوانوں پر ہو تا ہے جس فوج کا ہر سپاہی سمجھ لے کہ شاید آگے چل کر میں ہی کمانڈر انچیف بن جاؤں تو وہ یقینا اس احساس کے تحت اپنے عمل و کردار کو ایسے طریق پر ڈھالے گا جو بالآخر اسے اس عہدے کا اہل بنا دے۔یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آئیگا کہ اس فوج کے تمام سپاہیوں میں کمانڈر انچیف بنے کی اہلیت پیدا ہو جائے گی لیکن اگر فوج کا ہر سپاہی یہ سمجھ بیٹھے کہ میں تو کمانڈر انچیف نہیں بن سکتا تو فوج گرتے گرتے اس حالت کو پہنچ جائے گی کہ اس میں ڈھونڈے بھی کوئی شخص ایسانہ ملے گا کہ جو اس عہدے کی ذمہ داری سنبھال سکے لپس جماعت کی ترقی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس کے ہر فرد میں یہ احساس پیدا ہو کہ بڑے سے بڑا کوئی عہدہ ایسا نہیں ہو سکتا ہے جس کی ذمہ داریوں کو میں کما حقہ ادا نہ کر سکوں۔جب تک ہر فرد اس احساس کے ماتحت آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرے اس وقت تک قومی اعتبار سے صلاحیت پیدا نہیں ہو سکتی جس کا پیدا ہونا تحفظ و بقا اور ترقی کے لئے ضروری ہے۔پس تم میں سے ہر شخص کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ وقت پڑنے پر وہ بڑے سے بڑا عہدہ سنبھالنے کا اہل ثابت ہو سکے۔“ بلند پروازی سے کیا مراد ہے ؟ اور وہ کن ذرائع سے حاصل کی جاسکتی ہے۔اس امر کو مزید واضح کرتے ہوئے حضور نے فرمایا :- بلند پروازی اسی کو کہتے ہیں کہ انسان اپنی موجودہ حالت سے اوپر ایک مقصد معین کرے پھر یہ سوچے کہ یہ مقصد کن ذرائع سے حاصل ہو سکتا ہے۔جب ذرائع اپنی معین صورت میں سامنے آجائیں تو پھر اس امر پر غور کرے کہ کن طریقوں سے یہ ذرائع فراہم ہو سکتے ہیں۔جب کوئی شخص یہ طریقے معلوم کر کے مصروف عمل ہو جاتا ہے تو ذرائع خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں اور بالآخر وہ مقصد مل جاتا ہے جس کے لئے یہ سب کو شش ہو رہی تھی۔اگر ایسا ظہور میں نہیں آتا تو وہ باید پروازی نہیں ، خام خیارا بیاوا ہمہ ہے ایسا شخص ہمیشہ خوابوں کی دنیا میں الجھتار بتا ہے۔پس ہماری جماعت کے نوجوانوں کو غور و فکر اور بدید پروازی کی عادت ڈالنی چاہیئے۔“ نوجوانوں کو اپنے اندر سوچ بچار کرنے کا مادہ پیدا کرنا چاہئے۔چنانچہ حضور نے فرمایا :- " مثلاً آپ المصلح میں امریکہ یا ہالینڈ کے مشن کی رپورٹ پڑھتے ہیں۔آپ کے لئے اتناہی کافی نہیں ہے