مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 648
گے۔648 " پس محنت اور کوشش کے ساتھ ہی انسان محنت اور کوشش کے ساتھ انسان انسان بنتا ہے۔انسان بنتا ہے۔یا تو تم موجودہ حالتوں پر قائم رہ کر اپنی غلامی کے دور کو اور لمبا کرو گے اور یا غلامی کے طوق کو اتار کر سرداری کے تخت کو جیتو گے۔یہ دونوں حالتیں تمہارے سامنے ہیں۔یا تو تم کوشش نہیں کرو گے اور یہ خیال کرو گے کہ موجودہ حالت کو بدلنے کی ضرورت نہیں۔اس حالت میں بھی روٹی مل جائیگی لیکن اس طرح تم غلامی کی حالت میں رہو گے۔پاکستان کے آزاد ہو جانے سے تم آزاد نہیں ہو جاتے کیونکہ جو ملک صنعتی طور پر دست نگر ہو وہ پورا آزاد نہیں کہلا سکتا۔اپنے آپ کو آزاد کرنے کے لئے اپنے ملک کو آزاد بنانے کے لئے قربانی کی ضرورت ہے۔اگر صنعتی اشیاء کے لئے ہم دوسرے ممالک کے محتاج رہے تو ہمیشہ یہ شکوہ رہے گا کہ فلاں ملک ہماری روئی نہیں لیتا۔ہمارا زمیندار مر رہا ہے۔وہ ہمیں فوجی سامان نہیں دیتا کیونکہ جس کی وجہ سے ہماری فوج غیر مسلح ہے۔= صنعتی آزادی کے بغیر آزادی " محدود آزادی ہوتی ہے۔آزادی محدود آزادی ہے۔رو " آزادی اس چیز کا نام ہے کہ ہمارا ملک سرے ممالک کو چیلنج کر سکے کہ تم ہمارا مقاطعہ کرتے ہو تو کرو ہمیں کوئی خطرہ نہیں۔تو میں یہاں بن رہی ہو ں۔ہوائی جہاز یہاں بن رہے ہوں۔ریلوں کے انجن یہاں بن رہے ہوں۔ٹریکٹر لاریاں موٹر اور دوسری چیزیں یہاں تیار کی جارہی ہوں۔یہ خیال کر لینا کہ روٹی تو ہر حالت میں ملتی ہے۔زیادہ کوشش کی کیا ضرورت ہے ہماری غلامی کو لمبا کرتا ہے۔لیکن اگر ہم روٹی کو لات ماریں اور تجارتوں ، ایجادوں، زراعتوں اور صنعتوں میں لگ جائیں تو شاید عرصہ تک ہمیں تکلیف بھی ہو یا ہماری نسل بھی کچھ عرصہ تک تکلیف اٹھائے لیکن ایک وقت ایسا آئے گا۔جب ہم اپنے خاندان اور ملک کے لئے ایک مفید وجود بن سکیں گے اور ہماری ساری تکالیف رفع ہو جائیں گی۔پس میں اپنے نوجوانوں کو نصیحت کرتا ہوں۔کچھ کہ وہ تعلیم محض اس لئے حاصل نہ کریں کہ اس کے نوکریوں کی بجائے پیشے اختیار کرنے چاہئیں نتیجہ میں انہیں نوکریاں مل جائیں گی۔نوکریاں قوم کو کھلانے کا موجب نہیں ہو تیں۔بلکہ نوکر ملک کی دولت کو کھاتے ہیں۔اگر تم تجارتیں کرتے ہو۔صنعتوں میں حصہ لیتے ہو۔ایجادوں میں لگ جاتے ہو تو تم ملک کو کھلاتے ہو اور یہ صاف بات ہے کہ کھلانے والا کھانے والے سے بہترین ہو تا ہے۔نوکریاں بے شک ضروری ہیں لیکن یہ نہیں کہ ہم سب نوکریوں کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہم زیادہ سے زیادہ پیشے اختیار کریں تاکہ ملک کو ترقی حاصل ہو اور کم سے کم ملازمتیں کریں۔صرف اتنی جن کی ملک کو اشد ضرورت ہو"۔فرموده ۲۱ نومبر ۱۹۵۲ء الفضل ۱۴دسمبر ۱۹۵۲ء )