مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 637 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 637

637 کے علاقوں میں پھیلا۔پس جب پیشگوئیوں سے کسی جگہ کی عظمت ظاہر ہوتی ہے تو یہ سمجھ لینا کہ یہ پیشگوئیاں ضرور ظاہری رنگ میں پوری ہوں گی ، حماقت ہے۔چاہے بعد میں وہ پیشگوئیاں ظاہری رنگ میں ہی پوری ہو جائیں لیکن مومن کا یہ کام ہے کہ جس چیز میں خدا تعالٰی نے اسے اب رکھا ہے ، اس میں وہ راضی رہے۔خداتعالی کا جو معاملہ ہمارے ساتھ ہے وہ کتنا عجیب ہے۔ایک چور سیندھ لگاتا ہے اور پھر تو بہ کر لیتا ہے تو خدا تعالی اس کی تو بہ کو یل کر لیتا ہے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ دوسرے دن پھر سیندھ لگائے گا۔پس خداتعالی باوجود اس کے کہ وہ علم غیب رکھتا ہے ، ہمارے ساتھ رحم کا معاملہ کرتا ہے لیکن ہم لوگ باوجود علم غیب نہ ہونے کے خداتعالی کے ساتھ مستقبا ، والا معاملہ کرتے ہیں۔اگر خدا تعالٰی بھی ہمارے ساتھ مستقبل والا معاملہ کرے تو چونکہ اسے علم ہے کہ مجرم دوبارہ جرم کرے گا اسے علم غیب حاصل ہے اس لئے کسی کی توبہ قبول نہ ہو۔اسی طرح ہزاروں لوگ مارے جائیں گے۔ہم دیکھتے ہیں کو لوگ گناہ کرتے ہیں تو پھر بعض اوقات بڑی سٹرگل (Struggle) کے بعد اس گناہ سے نجات حاصل کرتے ہیں۔اگر خدا تعالی توبہ قبول کرنے سے انکار کر دے تو کوئی شخص گناہ سے نجات حاصل نہ کرے۔تو به ضمیر کو روشن کرتی ہے اور انسان کو گناہ سے روکتی ہے۔باوجود اس کے کہ تو به ضمیر کو روشن کرتی ہے خدا تعالی دیکھ رہا ہوتا ہے کہ اس شخص نے تو بہ تو ڑ دینی ہے۔باوجود اس کے کہ وہ جانتا ہے کہ یہ پھر فساد کرے گا لڑائی کرے گا گالیاں دے گا اور جھوٹ بولے گا وہ اس کی تو بہ کو قبول کر لیتا ہے۔گویا خدا تعالی باوجود علم غیب رکھنے اور جاننے کے کہ مجرم دوبارہ جرم کرے گا وہ اس سے حاضر و الا معاملہ کرتا ہے لیکن ہم باوجو د علم غیب نہ ہونے کے خدا تعالٰی سے مستقبل والا معاملہ کرتے ہیں۔اس سے زیادہ بیوقوفی اور کیا ہوگی۔ہمیں قادیان کے بارے میں خدا تعالیٰ کی رضا کو ہر حال میں مقدم رکھنا ہمارا فرض ہے خدا تعالی سے حاضر و الا معاملہ کرنا چاہئے۔اگر خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم جنگلوں میں رہیں تو ہمیں جنگلوں میں رہنا چاہئے اور اپنا کام کرتے چلے جانا چاہئے۔ہم چوہوں اور چیونٹیوں کو باہر پھینک دیتے ہیں تو وہ وہیں اپنا کام شروع کر دیتے ہیں شہد کی مکھیوں کو دیکھ لو۔انسان ان کا تیار کیا ہوا شہد حاصل کر لیتا ہے اور انہیں دور پھینک دیتا ہے لیکن وہ وہیں اپنا کام شروع کر دیتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے کام میں کامیاب رہتی ہیں۔اگر وہ اس بات کا انتظار کرتی رہیں کہ انہیں پہلی جگہ ملے تو کام کریں تو ہزاروں چھتے مر جائیں۔اسی طرح اگر تمہیں اپنا گھر نہیں ملتا تو جس گھر میں تمہیں خداتعالی نے رکھا ہے تمہیں اسی میں فورا کام شروع کر دینا چاہئے۔اگر خدا تعالی تمہیں واپس لے جائے تو وہاں جا کر کام شروع کرد و لیکن کسی منٹ میں بھی اپنے کام کو پیچھے نہ ڈالو۔