مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 638
638 مومن ہر وقت کام میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے موت آجاتی مومن ہر وقت کام میں لگا رہتا ہے ہے۔گو یا مومن کے لئے کام ختم کرنے کا وقت موت ہوتی ہے۔آپ نے بہت اچھا کام کیا ہے کہ اپنا مرکز تعمیر کر لیا اور خدا کرے کہ انصار اللہ کو بھی اس طرف توجہ پیدا ہو اور وہ اس حماقت کو چھوڑ دیں کہ قادیان واپس جانے کے متعلق بہت کی پیشگوئیاں ہیں اس لئے قادیان ہمیں ضرور واپس ملے گا اور چونکہ قادیان ہمیں واپس ملے گا۔اس لئے ہمیں یہاں کوئی جگہ بنانے کی ضرورت نہیں۔انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ قادیان کے متعلق جو پیشگوئیاں ہیں ، وہ مکہ کے متعلق جو پیشگوئیاں تھیں ، ان سے زیادہ نہیں اور ہم جانتے ہیں کہ یہ پیشگوئیاں ظاہری معنوں کے لحاظ سے پوری نہیں ہو ئیں۔اس لئے ہمیں بھی پتہ نہیں کہ آئندہ ہمارے ساتھ کیا ہو گا۔مکہ کے متعلق بھی بہت پیشگوئیاں موجود تھیں بلکہ ان پیشگوئیوں کو پورا کرنے کے لئے آپ کو معبوث کیا گیا تھا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے بعد بھی مدینہ میں ہی رہے ، مکہ واپس نہیں گئے۔قادیان مکہ سے بڑھ کر نہیں۔جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں اگر چہ ہم بھی امید رکھتے ہیں کہ قادیان ہمیں واپس ملے گا اور ایک مومن کو یہی امید رکھنی چاہئے کہ قادیان ہمیں واپس ملے گا اور وہی ہمارا مرکز ہو گا لیکن انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ عملاً ہمارا مرکز وہی ہو گا جہاں ہمیں خدا تعالی رکھنا چاہتا ہے۔پس ہمیں اس نکتہ کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے کاموں کو وسیع کرنا چاہئے اور اس بات کو نظر انداز کر کے کہ ہم نے قادیان واپس جاتا ہے اپنا کام کرتے چلے جانا چاہئے۔ہم خد اتعالیٰ کے نوکر ہیں وہ جہاں ہم سے کام لینا چاہے ہم وہیں کام کریں گے کہوں گا کہ اگر ہمیں تار بھی آجائے کہ آؤ اور قادیان میں بس جاؤ تو بھی تمہیں شام تک کام کرتے چلے جانا چاہئے تا یہ پتہ لگے کہ ہمیں کام سے غرض ہے۔ہمیں قادیان سے غرض نہیں ، ہمیں ربوہ سے کوئی غرض نہیں ، اگر ہمیں خدا تعالی لے جائے تو ہم وہاں چلے جائیں گے ورنہ نہیں۔ہم خدا تعالی کے نوکر ہیں کسی جگہ کے نہیں۔اگر ہم کسی جگہ سے محبت کرتے ہیں تو صرف اس لئے کہ خدا تعالٰی نے اسے عزت دی ہے۔پس مومن کو اپنے کاموں میں ست بلکہ میں تو نہیں ہونا چاہئے۔پھر نو جوانوں کی عمر تو کام کی عمر ہے ، انہیں اپنے کاموں میں بہت چست رہنا چاہئے۔" فرموده ۱۵ اپریل ۱۹۵۲ء مطبوعه الفضل فضل عمر نمبر مارچ ۶۲۷)