مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 616
616 (Dog) ڈاگ معنے کتا کا سبق دہراتا رہا۔خدا تعالیٰ سوال کرے گا کہ تم نے دنیا میں کیا کام کیا تو کیا تم یہ کہو گے ڈی۔او۔جی ڈاگ (Dog ڈاگ منے کتا۔یہ کوئی زندگی ہے۔تم دنیا میں پیدا ہوئے اور پھر مر گئے اور خدا تعالیٰ کے سامنے یہ کہنے لگے کہ میں ساری عمر یہی سبق دہراتا رہا۔خدا تعالیٰ کہے گا کہ تم بھی کہتے ہی ہو اور کتے سے بھی بد تر۔یاد رکھو جلدی جلدی پڑھنا ہتھیار کا کام دیتا ہے لیکن ہمارے ملک کے نوجوانوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جس کے گھر پر ڈا کو آئے اور انہوں نے گھر کی عورتوں پر ہاتھ ڈالا لیکن وہ ابھی چھری تیار کر رہا تھا۔بعد میں وہ چھری تیار کر کے لے بھی آیا تو اسے کیا فائدہ ہو گا۔غرض تھوڑی سے تھوڑی مدت میں علم کو ختم کرنا او۔اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ہمارا ایک انٹرنس پاس لڑ کا مولوی فاضل تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد اس قابل نہیں ہو تا کہ وہ انگریزی یا عربی بول سکے حالانکہ اسے بہت سے ایسے مواقع میسر آتے ہیں جن سے اگر وہ چاہے تو فائدہ اٹھا سکتا ہے۔کسی زمانے میں عربی کے بڑے بڑے عالم بھی عربی نہیں بول سکتے تھے کیونکہ انہیں عربی بولنے کے مواقع میسر نہیں آتے تھے لیکن اب تو ہمارے پانچ سات آدمی ایسے ہوں گے جو عرب ممالک سے ہو آئے ہیں اور پھر عربی بولنے والے طالب علم بھی آتے رہتے ہیں۔انہیں ان سے گفتگو کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔انگریزی دانوں کو تو انگریزی بولنے کے مواقع کثرت سے ملتے ہیں لیکن عربی دانوں کو اگر عربی زبان میں کچھ بولنے کا موقعہ ملے تو ان کی حالت اس شخص کی سی ہوگی جو ایک وزنی ٹرنک سر پر اٹھائے جارہا ہو ، وہ اس وقت پسینہ پسینہ ہو رہے سرپرا ہوتے ہیں کیونکہ انہیں عربی بولنے کی عادت نہیں ہوتی۔پس تمہیں علم سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔مثلا عربی دانوں کو لے لو۔جتنے طلباء ہمارے جامعہ المبشرین میں پڑھتے ہیں ، جہاں تک کورس کی تعلیم کا سوال ہے ان میں سے ایک بھی نہیں جس کی تعلیم مجھ سے دس گنا زیادہ نہ ہو لیکن جتنا قرآن کریم کو میں سمجھتا ہوں اور اس کے معانی اور معارف بیان کر سکتا ہوں وہ اس کا 10/ 1 فیصدی بھی بیان نہیں کر سکتے۔گویا ان کی تعلیم مجھ سے دس گنا زیادہ ہے لیکن علم 1/10 سے بھی کم ہے کیونکہ وہ پڑھنے کے لئے علم سیکھتے ہیں استعمال کے لئے نہیں۔کتاب کا علم علم نہیں۔علم کتا میں پڑھنے کے بعد آتا ہے۔ہم کتابیں پڑھتے ہیں اور بعد میں ان پر غور کرتے ہیں اور نتائج نکالتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ کتاب کے باغیچہ یا وادی میں گھاس یا پھول نکلا ہے۔وہ گھاس یا پھول اپنی جگہ پر قیمتی نہیں بلکہ ان کی قیمت اس وقت بڑھتی ہے جب مالی ان سے ہار تیار کرتا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہم مالی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم وادی کے کنارے بیٹھے رہتے ہیں، ہم پڑھتے رہتے ہیں لیکن علم کا "انیلے سز" (Analysis) اور استعمال نہیں سمجھتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہماری معلومات خراب ہوتی ہیں ، ہماری دلیل ناقص ہوتی ہے۔جو بات ہم دس بار بھی پڑھ چکے ہوں اسے موقعہ پر چسپاں کرنا نہیں آتا اور وقت پر پتہ نہیں لگتا کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ سترہ اٹھارہ سال ہو گئے کہ ہم وفات مسیح پر زور دے رہے ہیں لیکن ابھی تک جماعت کے بعض لوگ یہ نہیں سمجھے کہ یہ کیا مسئلہ ہے۔وہ وفات مسیح کی ایک