مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 617 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 617

617 آیت لے لیں گے لیکن بیان کرتے وقت الٹ دلیل دے دیں گے۔مثلاً آپ فرماتے ہیں کہ یعیسی انی متوفیک و رافعک الی و مطهرك من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامه (ال عمران رکوع ۵ آیت (۱۳) کی آیت ہے۔لوگ اس بحث میں پڑے رہتے ہیں کہ توفی کے کیا معنے ہیں حالانکہ یہاں توفی کے معنوں کا سوال نہیں سوال مقام کا ہے۔کوئی مقام سمجھ لو سوائے وفات کے معنوں کے اور کوئی معنے لگ نہیں سکتے اور معنے کرنے میں ہمیں آیت کے الفاظ کو آگے یچھے کرنا پڑے گا۔ہمارے دعوی کی بنیاد ایک تو یہ آیت ہے اور ایک آیت سورہ مائدہ کے آخر میں آتی ہے لیکن جو لوگ علم سے فائدہ نہیں اٹھاتے وہ لفظی معنوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ہمارے ایک عالم تھے جو غیر احمد یوں میں بھی بڑے عالم سمجھے جاتے تھے لیکن انہیں علم کو استعمال کرنا نہیں آتا تھا۔ایک جگہ وفات مسیح پر بحث ہو گئی۔دوست انہیں لے گئے۔دوسرے عالم نے کہا، قرآن کریم سے وفات مسیح ثابت نہیں ہوتی تو انہوں نے کہا قرآن کریم میں تمیں آیات ہیں جن سے وفات مسیح ثابت ہوتی ہے۔اس نے کہا پھر ثابت کرو۔انہوں نے ایک آیت پڑھی۔مخالف نے اس پر اعتراض کیا۔بجائے اس کے کہ وہ اس اعتراض کا جواب دیتے انہوں نے کہا۔اچھا اسے چھوڑو ، دوسری آیت لو پھر دوسری آیت پڑھی۔مخالف مولوی نے اس پر بھی اعتراض کیا تو انہوں کہا اچھا اسے بھی چھوڑ دو یہاں تک کہ تمھیں کی تمہیں آیات ختم ہو گئیں۔حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی جو لاہور کے ایک پرانے احمدی خاندان کے فرد ہیں ، جن کے گھروں کے پاس اب ہماری جامع مسجد بنی ہوئی ہے، شروع شروع میں غیر مبائع ہو گئے۔ان کے والد بہت پرانے احمدی تھے۔میرے عقیقے پر بھی وہ قادیان آئے تھے گو بارش کی وجہ سے وہ قادیان پہنچ نہ سکے۔گویا اس وقت سے ان کے والد کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلقات تھے۔مرہم عیسی صاحب پیغامی تو ہو گئے لیکن ان کو مجھ سے ہمیشہ انس رہا۔اعتراضات بھی کرتے تھے لیکن پرانی محبت کی وجہ سے انہوں نے تعلقات میں فرق نہیں آنے دیا۔میں سفر پر کہیں جا تا تو عموماً یہ میرے ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ایک دفعہ فیروز پور میں میری تقریر ہوئی۔مرہم عیسی صاحب بھی وہاں آپہنچے۔وہ مولوی صاحب جن کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں وہ بھی وہیں تھے۔میری طبیعت خراب تھی جو نظارہ مجھے یاد ہے وہ یہ ہے کہ میں لیٹا ہوا تھا کہ مرہم عیسی صاحب نے اعتراضات کرنے شروع کر دیئے۔میں نے انہیں کہا کہ مولوی صاحب سے بات کریں۔مرہم عیسی صاحب نے اعتراض کیا۔مولوی صاحب نے جواب دیا۔انہوں نے پھر اعتراض کیا جس کا مولوی صاحب نے کچھ جواب دیا لیکن مرہم عیسی صاحب نے پھر اعتراض کیا۔اس پر جواب دینے کے بجائے وہ مولوی صاحب کہنے لگے۔تو بڑا چالاک ہے ” تینوں گلاں بڑیاں آندیاں ہین " آخر اس کام کو مجھے خود سنبھالنا پڑا اور میں نے مرہم عیسی صاحب سے کہا کہ آپ ادھر آئیں اور مجھ سے بات کریں۔پس اگر علم آتا ہے تو اس کا استعمال کرنا بھی ضروری ہے اور استعمال کا وقت پند رہ سولہ سال کی عمر میں شروع ہو جاتا ہے لیکن جو طریق اب جاری ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پچیس تیس سال کی عمر میں