مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 607 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 607

607 بلکہ کفار کے نزدیک بھی یہ چیز بڑی قیمتی سمجھی جاتی تھی اور شاید ہی کسی زمانہ میں اسے ترک کرنا جماعتی اور سیاسی طور پر تسلیم کیا گیا ہو۔مگر اس زمانہ میں سیاسی اور قومی مفاد کے لئے جھوٹ کو جھوٹ سمجھا ہی نہیں جاتا بلکہ اسے ایک نہایت ضروری چیز قرار دیا جاتا ہے اور یہ مرض اس قدر پھیل گیا ہے کہ ہمارے ملک میں لوگ بڑے اطمینان کے ساتھ قسمیں کھا کھا کر جھوٹ بولتے ہیں اور ساتھ ہی اس بات پر ناراض بھی ہوتے ہیں کہ ہمارے اس جھوٹ کو سچ تسلیم کیوں نہیں کیا جاتا۔عدالتوں میں پہلے یہ رواج تھا کہ گواہ کے ہاتھ میں قرآن کریم دے کر اس سے قسم لیتے تھے اور اس کا مطلب یہ ہو تا تھا کہ قرآن کریم میں جو وعید نازل ہوئے ہیں ، انہیں مد نظر رکھتے ہوئے میں قسم کھاتا ہوں اور اگر میری قسم جھوٹی ہو تو مذ کورہ وعید اور سزائیں مجھے ملیں لیکن ان گواہوں میں سے کئی ایسے ہوتے تھے جو قسم کھا کر بھی جھوٹ بولتے تھے۔مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم جو ہمارے بڑے بھائی تھے اور ای۔اے۔سی تھے وہ اپنا تجربہ سنایا کرتے تھے کہ جتنا کوئی قرآن کریم ہاتھ میں لے کر جوش سے گواہی دیتا تھا، میرے تجربہ میں اتنا ہی وہ جھوٹا ہو تا تھا۔وہ ایک لطیفہ سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص جو میرا اچھا واقف تھا۔اس کا مقدمہ میرے سامنے پیش ہوا۔وہ کہنے لگا مجھے کوئی اور تاریخ دی جائے کیونکہ جو گواہ میں نے پیش کرنے تھے ، وہ فلاں فلاں وجہ سے حاضر نہیں ہو سکتے۔میں نے نہیں کر کہا میں تو تمہیں عقل مند اور ہوشیار آدمی خیال کرتا تھا لیکن اب میری طبیعت پر یہ اثر ہوا ہے کہ تم بیوقوف ہو۔وہ کہنے لگا کیوں؟ میں نے کہا گواہوں کے لئے جگہ اور وقت کی کیا ضرورت ہے۔اگر تمہاری جیب میں کچھ ہے تو رو پید ا ٹھنی دے کر بعض آدمی گواہی کے لئے لے آؤ۔چنانچہ وہ باہر چلا گیا اور عملی طور پر تھوڑی دیر میں ہی کچھ گواہ لے آیا۔گواہی لیتے ہوئے میں ہنستا بھی جاؤں اور مذاق بھی کرتا جاؤں۔وہ لوگ قرآن کریم سر پر رکھ کر اور قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ واقعہ یوں ہوا ہے حالانکہ تھوڑی دیر ہوئی ، میں نے خود مدعی کو اس غرض کے لئے باہر بھیجا تھا کہ وہ کچھ دے دلا کر چند گواہ لے آئے۔جب وہ گواہی دے چکے تو میں نے انہیں پکڑا اور کہا تم بڑے کذاب ہو۔تمہیں واقعہ کا علم ہی نہیں لیکن محض چند ٹکوں کی وجہ سے تم اتنا جھوٹ بول رہے ہو کہ قرآن کریم کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔اب جس قوم کی یہ حالت ہو اس کا یہ کہنا کہ ہم کامیاب کیوں نہیں ہوتے ، بالکل غلط بات ہے۔دنیا میں وہی تو میں جیتا کرتی ہیں جن میں صداقت ہوتی ہے۔میں عیسائی دنیا کو دیکھتا ہوں کہ انہوں نے مشق کے ساتھ اپنے اندر سچائی کی اتنی عادت پیدا کر لی ہے کہ جہاں حکومت کی خاطر وہ ہر قسم کا جھوٹ بول لیتے ہیں وہاں جب ذاتیات کا سوال آتا ہے تو وہ جھوٹ نہیں بولتے۔امریکہ کا کیریکٹر زیادہ اچھا ثابت نہیں ہوا۔امریکہ کا کیریکٹر کمزور ہے کیونکہ انہوں نے جلد ترقی کی ہے اور اس لئے وہ اپنا کیریکٹر نہیں بنا سکا لیکن یورپ نے آہستہ آہستہ ترقی کی ہے اور اس نے اپنا کیریکٹر بنالیا ہے۔اسی طرح کسی زمانہ میں ایک مسلمان کا کیریکٹر ایسا تھا کہ وہ جو بات کہتا تھا، ٹھیک ہوتی تھی اور جب تک ہماری جماعت بڑھی نہیں تھی اس وقت تک اس کا بھی یہی حال تھا۔احمدی کوئی بات کہہ دے لوگ اسے صحیح تسلیم کر لیتے تھے اور کہتے تھے احمدی جھوٹ نہیں بولتے تھے ، جھنگ کا ہی ایک واقعہ ہے یہاں ایک دوست احمدی ہوئے جن کا نام مغلہ