مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 608
608 تھا۔ان کے تمام رشتہ دار ان کے سخت مخالف ہو گئے۔اس علاقہ کے لوگ چوری کو ایک فن سمجھتے ہیں اور پھر اس پر فخر کرتے ہیں۔چنانچہ جتنا بڑا کوئی چور ہو گا اتنا ہی وہ چوروں میں معزز ہو گا۔مثلاً کہا جائے گا فلاں آدمی بڑا معزز ہے اس لئے کہ فلاں موقعہ پر اس نے اتنی بھینسیں نکال لیں یا فلاں آدمی بہت معزز ہے کہ اس نے اتنی گائیں نکال لیں اور پھر چوروں میں اس حد تک نظام قائم ہوتا ہے کہ ہر علاقہ میں جو جند ضلعوں یا چند تحصیلوں پر مشتمل ہو تا ہے علاقہ کے سب چور اس کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں اور مال مسروقہ میں سے اس کا حصہ نکالتے ہیں۔مغلہ ایسے ہی بادشاہوں میں سے ایک تھے جو بعد میں احمدی ہو گئے اور چوری سے انہوں نے تو بہ کرلی۔انہوں نے بتایا کہ علاقہ کے چور مال مسروقہ کا پانچواں یا دسواں یا بارہواں حصہ میرے گھر پر لاتے تھے اور وہ سنایا کرتے تھے کہ چوروں کے اندر ایسا نظام موجود ہے کہ بعض چوری کی ہوئی چیزوں کو دو دو تین تین سو میل تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ہر ایک جگہ کا اڈہ مقرر ہوتا ہے اور پہلے سے ہی یہ طے ہوتا ہے کہ اگر کوئی مسروقہ چیز مشرق کے کسی علاقہ کی طرف نکالنی ہے تو اتنے میل پر فلاں آدمی کو دے آؤ اور اگر مغرب کو مال نکالنا ہے تو چھ سات میل پر ایک دو سرے آدمی کو دے آؤ۔اسی طرح شمال اور جنوب میں ایک ایک آدمی مقرر ہوتا ہے۔چور مخصوص حالات کے مطابق یہ فیصلہ کرتا ہے کہ مال فلاں طرف نکالا جائے۔مثلاً اگر وہ دیکھتا ہے کہ جس کے ہاں چوری کی گئی ہے اس کی رشتہ داریاں مشرق میں ہیں تو وہ مسروقہ مال مغرب کی طرف بھیج دے گا۔اسی طرح اس کی رشتہ داریاں شمال کی طرف ہیں تو وہ مال جنوب کی طرف بھیج دے گا اور اگر رشتہ داریاں جنوب کی طرف ہیں تو وہ مال شمال کی طرف بھیج دے گا۔مثلاً بیکانیر گورداسپور سے کتنی دور ہے لیکن ہمارے علاقہ کا مسروقہ مال بیکانیر تک جاتا تھا۔پھر چوروں میں ایک قسم کا نظام ہوتا ہے مثلاً ایک شخص اگر کوئی جانور چوری کرتا ہے تو وہ حالات کے مطابق اسے دس بارہ میل پر کسی مقررہ اڈے پر پہنچا دے گا اور اسے مثلا دسواں حصہ قیمت کامل جائے گا۔پھر دو سرا آدمی اسے دوسرے اڈے تک پہنچا دے اور اسے دسواں حصہ قیمت کامل جائے گا۔اس طرح وہ ایک عام اندازہ لگا کر قیمت کے حصے کرتے جائیں گے اور آخری وقت اسے بیچ کر اپنا حصہ پورا کرے گا۔ایک دفعہ سکھوں نے میری گھوڑیاں چرالیس اور پولیس نے میرے خیال میں انہیں تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن چونکہ پولیس والے ایسے معاملات میں مجرموں سے کچھ لے کر کھاپی لیتے ہیں اس لئے وہ سفارش بھی لے آئے کہ انہیں معاف کر دیں اور اپنی رپورٹ واپس لے لیں۔یہ لوگ گھوڑیاں واپس دے دیں گے۔ان کا خیال تھا کہ اگر انہوں نے معاف کر دیا اور پولیس نے اپنی رپورٹ واپس لے لی تو بعد میں گھو ڑیاں غائب کردی جائیں گی۔میں نے کہا میں ایسا نہیں کروں گا۔ہمارے وہ دوست میرے پاس پہنچے اور انہوں نے کہا۔میں نے سنا ہے کہ سکھوں نے آپ کی گھوڑیاں چرالی ہیں۔یہ لوگ سیدھی طرح تو گھو ڑیاں واپس نہیں کریں گے۔آپ اجازت دیں تو میں ان کی گھوڑیاں چوری کروا دوں۔اس طرح وہ آپ کی گھو ڑیاں واپس کر دیں گے۔میں نے کہا آپ نے توبہ کی ہوئی ہے۔آپ اپنی توبہ پر قائم رہیں، گھوڑیوں کی خیر ہے۔اتفاقاً وہی چور جنہوں نے میری