مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 601 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 601

601 میں شامل ہوئے ان میں سے بعض کی علمی قابلیت اپنے ساتھیوں کی نسبت بہت کم تھی۔میں نے شروع میں ہی ہدایت کی تھی کہ جو خدام تعلیم یافتہ نہیں ان کو الگ تو نہیں پڑھانا چاہئے لیکن اس کا یہ اثر بھی نہیں پڑنا چاہئے کہ کو رس خراب ہو جائے کیونکہ اگر یہ غلطی کی جائے تو نا فرض شناسی کی ایسی عادت پڑ جائے گی کہ اس کا روکنا مشکل ہو گا۔ہر طالب علم کے اندر یہ احساس ہونا چاہئے کہ استاد اپنے فرض کو ادا کر رہا ہے اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب استاد اپنے پہلے فرض یعنی کو رس کو پورا کر دے۔میں امید کرتا ہوں کہ آئندہ یہ غلطی سرزد نہیں ہوگی۔پڑھانے کے لئے بے شک آسان الفاظ استعمال کر لو لیکن کو رس پورا کر دینا چاہئے۔میں نے مولوی سیف الرحمن صاحب کو جن کے سپرد عربی کی ابتدائی تعلیم تھی ، یہ ہدایت کی تھی کہ صرف و نحو کی لمبی باتوں میں نہ پڑو۔صرف ایسی موٹی موٹی باتیں بتا دو جن سے خدام کے اندر قرآن و حدیث پڑھنے کے لئے دلیری پیدا ہو جائے اور اس طرح اگر ایک گھنٹہ روزانہ بھی پڑھائی کی جاتی تو اس قدر عربی چھ سات دن میں پڑھائی جاسکتی تھی یعنی عنوان بتا دیئے جاتے تاکہ کوئی شخص عربی لفظ بول کر انہیں ڈرا نہ سکے۔بہر حال آئندہ یہ احتیاط ہونی چاہئے کہ کورس پورا ہو جائے۔اگر کورس پورا نہیں ہو گا تو نہ تو طالب علم اپنے مقصد کو حاصل کر سکیں گے اور نہ استادوں کے متعلق وہ اچھا امپریشن (Impression) لے کر جائیں گے۔یہ تو صاف بات ہے کہ اگر ڈاکٹر اپنے شاگرد کو آدھی ڈاکٹری پڑھا دے تو وہ لوگوں کو مارنے والا بنے گا، جلانے والا نہیں بنے گا اسی طرح وہ کو رس جو مقرر کیا گیا ہے اگر پورا نہ ہو تو لازماً اس کا اچھا اثر نہیں پڑ سکتا۔بڑی بھاری چیز جو تمہاری آنکھوں کے سامنے رہنی چاہئے وہ یہ ہے کہ ہم نے احمدیت کے ذریعہ سے اس عہد کو پورا کرنا ہے جو رسول کریم میں تم نے خد اتعالیٰ سے کیا۔ہمارا فرض تھا کہ ہم یہ عہد آپ کے ذہن نشین کرائیں اور اساتذہ کا فرض تھا کہ ہمارا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے آپ کو پڑھائیں۔اگر نمائندہ خدام اس چیز کو سمجھ لیں اور انہیں اس کا یقین ہو جائے اور ساتھ ہی وہ اس کو آگے پھیلانے کی کوشش کریں تا وہ اس عہد کو تازہ کریں جو رسول کریم میل ل ل ل لو ہم نے خدا تعالیٰ کی خاطر ہم سے لیا تو ہمیں بہت جلد کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔رسول کریم ملی یا اللہ نے یہ عہد اپنی ذات کے لئے نہیں لیا تھا بلکہ آپ نے یہ عہد خدا تعالیٰ کی خاطر لیا تھا۔اگر ہم اس کو پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں تو اس لئے تا اس عہد کو جو آج سے چودہ سو سال قبل لیا گیا تھا دوبارہ زندہ کریں۔دوسروں کو یاد دلائیں اور اسے لوگوں میں قائم کرنے کی کوشش کریں۔اگر یہ بات پختہ ہو جائے تو ہم اس فرض کو ادا کریں گے جو ہمارے ذمہ لگایا گیا تھا۔ایک ماں جو قربانی کر سکتی ہے وہ ہر شخص جانتا ہے۔آپ میں سے وہ کون سا شخص ہے جو ماں کے پیٹ سے پیدا نہیں ہوا۔بے شک بعض لوگ ایسے ہوں گے جنہوں نے اپنی ماں کا دودھ نہیں پیا ہو گا یا جنہوں نے ماں کی تربیت اپنی ہوش میں حاصل نہیں کی ہوگی لیکن ایسے بہت کم ہیں۔نوے فی صدی لوگ ایسے نکلیں گے جنہوں نے اپنی ماں کا دودھ پیا ہو گا یا اس کی نگرانی میں دودھ پیا ہو گایا جنہوں