مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 589 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 589

589 ہیں۔۔پچھلے سال سے کالج بھی کھول دیا گیا ہے اور آئندہ بہت بڑی ترقیات کی امید ہے۔مشرقی افریقہ میں بھی احمدیت پھیل رہی ہے۔انڈونیشیا میں بھی رستے کھل رہے ہیں اور مزید کھولے جاسکتے ایسے حالات میں تبلیغ کو وسیع کرنے کا تو سوال پیدا ہو سکتا ہے کم کرنے کا نہیں۔پھر لٹریچر ہے۔اس کے لیے چاہئے تھا کہ چندہ بڑھایا جاتا لیکن چندہ میں جماعت بجائے ترقی کے ست ہو رہی ہے۔تحریک جدید دفتر اول کے سولہویں سال میں بھی سستی ہوئی ہے۔اس سال صرف ایک لاکھ بتیس ہزار روپیہ کی آمد ہوئی ہے جو پچاس فی صدی سے بھی کم ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس میں کچھ حصہ زمینداروں کی غفلت کا بھی ہے اور ان کو سزا بھی مل گئی ہے۔۔۔اس سال زمینداروں نے چندہ بہت کم دیا ہے اور عموماً یہ کہہ دیا جاتا تھا کہ گندم کی قیمت گر گئی ہے حالا نکہ جن دنوں گندم کی قیمت اڑھائی روپیہ فی من تھی ان دنوں بھی زمیندار موجودہ چندہ سے زیادہ چندہ دیتے تھے اس لئے خدا تعالیٰ نے سیلاب کے ذریعہ اس گندم کو بھی اڑا دیا۔بہر حال میں سمجھتا ہوں کہ چندہ کی کمی میں کچھ حصہ زمینداروں کا بھی ہے۔زمینداروں نے سمجھ لیا ہے کہ دس روپیہ فی من ہمارا حق ہے حالانکہ چھ سات روپیہ فی من بھی غنیمت ہے۔گندم کی قیمت تو تین چار روپیہ کے درمیان آجائے گی۔دراصل گندم کی قیمت کا زیادہ کرنا آمد بڑھانے کا ذریعہ نہیں۔آمد بڑھانے کا ذریعہ پیداوار بڑھانا ہے۔دنیا کے دوسرے ملکوں میں گندم کی پیداوار زیادہ ہے۔روس میں کہا جاتا ہے کہ گندم کی پیداوار فی ایکر چالیس پچاس من تک پہنچ گئی ہے۔لیکن ہمارے ملک میں گندم کی پیداوار کی اوسط فی ایکٹر سات من ہے۔سرگودھا کے ضلع میں کچھ علاقہ میں پیداوار ہیں پچیس من فی ایکڑ ہو جاتی ہے لیکن سارے ملک میں اوسط پیداوار کا ہونا اور چیز ہے۔سندھ میں ایک کھیت سے جو میرے قبضہ میں ہے بیالیس من کپاس نکلی ہے اور ساری کپاس کی اوسط چھ سات من پڑی ہے۔اگر اوسط پیداوار بڑھائی جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں اس وقت ایک کھیت سے چھ سات من گندم نکلتی ہے وہاں اسی کھیت سے تیس چالیس من نکلے گی اور اس طرح اگر گندم کی قیمت گر کر تین چار روپیہ فی من تک بھی پہنچ جائے تب بھی زمینداروں کی آمد موجودہ آمد سے بڑھ جائے گی۔زمینداروں کو کوشش کرنی چاہئے کہ وہ محنت زیادہ کریں۔ہمارے ملک کے زمیندار محنت بہت کم کرتے ہیں۔میرا ارادہ ہے کہ زمینداروں کی بھی ہر سال ایک کانفرنس بلائی جائے اور انہیں بتایا جائے کہ وہ زیادہ محنت کیسے کر سکتے ہیں۔نوجوانوں کو بھی چاہئے کہ وہ کام کریں اور محنت کریں تا جہاں ان کی آمد میں اضافہ ہو وہاں چندوں میں بھی زیادتی ہو۔نوجوانوں پر ذمہ داری زیادہ ہے۔اگر پچھلی نسل تین لاکھ روپیہ چندہ دے سکتی تھی تو نوجوان چھ لاکھ روپیہ کیوں نہیں دے سکتے۔آپ کہیں گے کہ ہماری آمدن کم ہے۔میں کہوں گا تم مومن ہو پھر تمہاری آمدن کیوں کم ہے ؟ اگر تم کہو کہ ہمارے ابھی حالات نہیں بدلے تو میں کہوں گا کہ حالات کا بد لنا بھی تمہارا اپنا کام ہے۔آپ حالات کو بدلیں اور اپنا معیار ایسا بنا ئیں کہ پہلوں سے بڑھ کر چندہ دیں لیکن حال یہ ہے کہ ابھی تک دفتر دوم کے وعدے ایک لاکھ تھیں