مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 590 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 590

590 ہزار تک پہنچے ہیں اور اس میں انصار بھی شامل ہیں۔پچھلے لوگوں نے اگر چہ اس سال خطر ناک ستی کی ہے لیکن وہ پہلے سالوں میں ہر سال سے بڑھ کر چندہ دیتے آئے ہیں اور خدا تعالیٰ چاہے گا تو اس سال کی غفلت کو دور کر کے بھی وہ جلد اپنے مقام کو حاصل کر لیں گے۔بہر حال آپ کا فرض ہے کہ ان سے آگے نکل جائیں کیونکہ دوسری سیڑھی پہلی سیڑھی سے ہمیشہ اونچی ہوتی ہے۔انہوں نے اگر تین لاکھ روپیہ چندہ دیا ہے تو تم چھ لاکھ روپیہ چندہ دو اور اگر انہوں نے سال میں سو فی صدی چندہ ادا کر دیا ہے تو تم اپنی ادائیگی کے معیار کو ان سے بلند کرو۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر غفلت ہوئی تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ہمیں بہت سے مشن بند کرنے پڑیں گے اور یہ بات ہماری ذلت کا موجب ہوگی۔پس میں نہیں سمجھتا کہ اس تجویز کو پیش کرنے کا کیا فائدہ ہے اور تم اس کے متعلق کیا کہو گے۔آخر چندوں میں جو سستی ہے اس کی یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ تمہارے ہمسایہ میں ایک احمدی بستا ہو گا اور اس نے تحریک جدید میں حصہ نہیں لیا ہو گا لیکن تم نے اسے تحریک نہیں کی ہوگی یا ایک نواحمدی تمہارے ہمسایہ میں رہتا ہے اور وہ تحریک جدید سے ناواقف ہے۔تم نے اسے واقفیت بہم پہنچا کر اسے تحریک جدید میں شامل نہیں کیا ہو گا یا تم نے اپنی شان کے مطابق وعدہ نہیں کیا ہو گا اور اگر وعدہ کیا ہو گا تو اسے سال بھر میں پورا نہیں کیا ہو گا۔پس سوائے اس کے کہ تم اقرار کرو کہ ہم نے اس بارہ میں سستی سے کام لیا ہے اور تم کہو گے کیا؟ اور یہ اقرار کرنا کہ میں ہر احمدی کے پاس جاکر اس سے وعدہ لوں گا اور اگر میرے کسی دوست نے یا میں نے خود اپنی حیثیت کے مطابق وعدہ نہیں کیا تو میں خود بھی حیثیت کے مطابق وعدہ کروں گا اور اس دوست سے بھی حیثیت کے مطابق وعدہ لوں گا اور پھر اگر میں نے وعدہ کیا ہے اور وقت پر ادا نہیں کیا تو میں اسے وقت پر ادا کروں گا۔یہی عہد ہے جو تم اب کر سکتے ہو۔تم عہد کرو اور پھر ستی کر دیا تم اب زبانی وعدہ تو کر رہے ہو اور دل سے یہ کہہ رہے ہو کہ ہم اسے پورا نہیں کریں گے تو پھر اس عہد کا کچھ فائدہ نہیں۔سو میں تم سے ان چاروں باتوں کا عہد لوں گا اور وہ عہد یہ ہے کہ آپ کے ہمسایہ میں یا آپ کے گاؤں میں یا آپ کے محلہ میں اگر کوئی ایسا احمدی ہو جو تحریک جدید میں حصہ نہیں لے رہا تو آپ اسے تحریک جدید میں شامل کرنے کی کوشش کریں یہاں تک کہ ایک احمدی بھی نہ رہے جو تحریک جدید میں حصہ نہ لے رہا ہو۔میں تحریک جدید کی پرانی شکل پھر قائم کر دیتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ کم از کم یونٹ پانچ روپیہ ہو۔کوئی شخص پانچ روپیہ سے کم رقم تحریک جدید میں نہ دے۔اس سے زیادہ دینے والے کو ہم مجرم نہیں گردانیں گے خواہ اس کی آمدنی کتنی ہی زیادہ ہو۔اپنے اخلاص کی نسبت سے کوئی شخص زیادہ دے تو دے۔پہلے شرط یہ تھی تحریک جدید میں حصہ لینے والا کم از کم پچیس فی صدی دے لیکن پرانی صورت میں سو روپیہ ماہوار آمد والا بھی اگر پانچ روپے دیتا تھا تو ہم اسے کہتے تھے اچھا تم پانچ ہی دے دو لیکن ہو تا یہ تھا کہ وہ اپنے اخلاص کی وجہ سے سو روپیہ ماہوار ہوتے ہوئے ڈیڑھ سو روپیہ دیتا تھا۔پس جماعت میں اخلاص کی روح بڑھانے کے لئے میں پچیس فی صدی والی شرط واپس لیتا ہوں۔پانچ روپیہ یونٹ ہو گا۔اگر پہلے سال ایک ہزار روپیہ ماہوار آمد والا بھی پانچ روپیہ دینا چاہتا