مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 567
567 دیواروں اور صفوں کی وجہ سے صفیں سیدھی باندھی جاسکتی ہیں لیکن کھلے میدانوں میں ایسا مشکل ہوتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جوانی میں صف سیدھی رکھنے کی عادت نہیں ڈالی جاتی۔پس خدام کو ہدایت دینی چاہئے کہ وہ صف بندی کی مشق کریں اور پھر اپنی اپنی جگہوں پر جا کر باقی خدام کو صف بندی کی مشق کرائیں۔فوجیوں کو دیکھ لو۔ان کی صفیں ہمیشہ سیدھی ہوتی ہیں۔ہمارے لوگ صف سیدھی کرنے کے لئے نیچے جھک کر دیکھتے ہیں لیکن وہ ایسا نہیں کرتے۔فوجیوں میں صف سیدھی کرنے کا یہ طریق ہے کہ وہ سید ھے چھاتی نکال کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور کندھے کے ساتھ کندھا ملا لیتے ہیں۔پھر آنکھ کو دائیں پھیر کر دیکھتے ہیں کہ کہیں صف ٹیڑھی تو نہیں۔اگر صف ٹیڑھی معلوم ہو تو فور اسیدھی کر لیتے ہیں۔پس جہاں سالانہ اجتماع کے موقعہ پر مختلف قسم کی مشقیں کرائی جائیں وہاں خدام کو صف بندی کی بھی عادت ڈالی جائے اور یہ کام اسی اجلاس سے شروع کر دینا چاہئے۔قائد اور زعماء جو یہاں موجود ہیں انہیں صف بندی کے اصول بتائے جائیں۔جب آخری دن آئے گا یعنی پر سوں صبح تو کوئی وقت نکال کر میں آپ کو اکٹھا کروں گا اور کھڑا کر کے دیکھوں گا کہ آیا آپ صحیح طور پر اپنی صفیں سیدھی کر سکتے ہیں اور آیا قائدین اور زعماء کو وہ طریق یا د ہو گیا ہے جسے ملحوظ رکھ کر خدام کو صفیں سیدھی رکھنے کی مشق کرائی جائے گی۔تیسری بات میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جب ایسے کام کئے جائیں تو صحیح طریق یہ ہوتا ہے کہ خدام سیدھے کھڑے ہو جا ئیں اور اپنی نظریں سامنے رکھیں اور خواہ کتنی ہی اہم بات کیوں پیدا نہ ہو وہ اپنی نظریں سامنے سے نہ ہٹا ئیں۔یہ چیز بھی اسلام میں جاری کی گئی ہے۔نماز میں یہ حکم ہے کہ نمازی اپنی نظر اپنی سجدہ گاہ پر رکھے۔رسول کریم ملی والی فرماتے ہیں کہ نماز میں جو شخص دائیں یا بائیں دیکھتا ہے یا اس کی نظر نیچے اور اوپر پھرتی ہے قریب ہے کہ خداتعالی اس کی بینائی کو اچک لے۔اب دیکھ لو یہ کتنا خطرناک وعید ہے کہ خداتعالی ایسا کرنے والے کو اندھا کر دے گا۔غرض وہ سارے احکام جواب تنظیم کے لئے مقرر کئے گئے ہیں اسلام میں پہلے سے موجود ہیں۔ہمیں یہ سبق سکھایا گیا ہے کہ صرف نماز میں ہی نہیں بلکہ تنظیم کے جو مواقع بھی پیش آئیں ان میں ہمیں انہی اصولوں پر کاربند رہنا چاہئے۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تمام خدام جو کھڑے ہیں ان میں سے کچھ دائیں طرف دیکھ رہے ہیں تو کچھ بائیں۔کچھ اوپر دیکھ رہے ہیں اور کچھ نیچے۔حالانکہ اسلامی اصول کے مطابق چاہئے تھا کہ آپ سب سامنے دیکھتے۔میرا خطیب ہونے کے لحاظ سے یہ کام ہے کہ چاروں طرف دیکھوں۔میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت جب میں سامنے دیکھنے کی نصیحت کر رہا ہوں اس وقت بھی خدام دا ئیں اور بائیں اور اوپر اور نیچے دیکھ رہے ہیں۔انسان کو کم از کم نصیحت کے وقت تو اس پر عمل کر لینا چاہئے۔بد قسمت ہے وہ شخص جو تنظیم کے وقت اپنا کام بھول جاتا ہے لیکن کم از کم وہ کمزوری جو ناقابل معافی ہے اور حیرت انگیز ہے وہ یہ ہے کہ انسان اسی وقت جب کہ نصیحت ہو رہی ہو اس کی خلاف ورزی کرے۔اس کے بعد میں آپ لوگوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں، اخبارات پڑھنے والے جانتے ہیں اور جن جماعتوں میں میں گیا ہوں ، وہ بھی جانتی ہیں کہ میں اڑھائی ماہ سے شدید کھانسی میں مبتلا ہوں اور میرا گلا بیٹھا ہوا ہے۔یہاں آکر