مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 566
566 سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ۲۱ اکتوبر ۱۹۵۰ء کو تین بجے بعد دو پھر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع سے افتتاحی خطاب فرماتے ہوئے ایک بصیرت افروز تقریر فرمائی جو ذیل میں درج کی جاتی ہے۔(مرتب) دنیا میں جب بھی کوئی اجتماع ہوتا ہے تو ہمیشہ اسے ایک مناسب صورت دی جاتی ہے اور اسلام نے بھی اس کو ملحوظ رکھا ہے۔مثلاً ہمارا روزانہ کا اجتماع نماز ہے۔نماز کو ہمارے خدا نے شروع سے ہی ایک ایسی شکل دی ہے جو سارے مسلمانوں میں یکساں نظر آتی ہے یعنی سب مسلمانوں کا ایک طرف منہ کرنا ، پھر ایک خاص وقت میں خاص قسم کی حرکات کرنا یعنی نماز شروع کرتے وقت ہاتھ اوپر اٹھانا، پھر سینہ پر ہاتھ باندھنا منہ قبلہ رخ کرنا ، رکوع کرتے وقت سب کا گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر جھک جانا سجدہ کرتے وقت دونوں ہاتھ زمین پر رکھنا سجدہ میں منہ اور ناک زمین پر لگانا اور اسی طرح کی اور مختلف حرکات کرنا اور ان سب باتوں کا ایک ہی وقت میں تمام کے تمام مسلمانوں میں جاری ہونا اس میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وحدت کامل وحدت صوری کے بغیر نہیں ہو سکتی۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ خدام میں وہ وحدت صوری پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔کچھ خدام تو ہاتھ باندھے کھڑے ہیں اور کچھ ہاتھ لٹکائے کھڑے ہیں۔کچھ خدام ایک طرف دیکھ رہے ہیں تو کچھ دوسری طرف دیکھ رہے ہیں۔گویا اس تھوڑے سے وقت میں بھی خدام اس تنظیم کو جو در حقیقت اسلام نے ہی قائم کی ہے لیکن مسلمانوں نے اسے بھلا دیا ہے ، قائم نہیں رکھ سکے۔دوسرے صفیں ٹیڑھی ہیں۔کوئی خادم آگے کھڑا ہے تو کوئی پیچھے کھڑا ہے۔بے شک خیمے لگے ہوئے ہیں اور خدام ان کے آگے کھڑے ہیں لیکن جہاں خیمے ترتیب کے ساتھ ایک لائن میں لگائے گئے ہیں وہاں چاہئے تھا کہ صفیں بھی ترتیب کے ساتھ لگائی جاتیں۔پس میری پہلی ہدایت تو یہ ہے کہ آئندہ اگر خیمے لگائے جائیں تو وہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک ایک ہی لائن اور ایک ہی صف میں ہوں۔دوسرے چونکہ خدام نے ایک خاص وقت میں صف میں کھڑا ہونا ہوتا ہے اس لئے خیموں کے آگے ایک لائن لگادی جائے جس پر تمام خدام ایڑیاں رکھ کر کھڑے ہوں۔صف بندی ہمیشہ ایڑیوں کے ساتھ ہوتی ہے انگلیوں کے ساتھ نہیں ہوتی۔اگر صف بندی انگلیوں کے لحاظ سے کی جائے گی تو کسی کا پاؤں چھوٹا ہوتا ہے اور کسی کا بڑا۔اس لئے کسی کا پاؤں آگے ہو جائے گا اور کسی کا پیچھے۔پس صرف ایڑھی ہی ایسی چیز ہے جس پر صف بندی کی بنیاد رکھی جاتی ہے اس لئے آئندہ کے لئے یہ بات نوٹ کرلی جائے کہ ہر خیمہ کے آگے ایک لائن کھینچ دی جایا کرے تا اس پر خدام سیدھی ایڑیاں رکھ کر کھڑے ہو جایا کریں۔اس کے علاوہ صف بندی کی خاص طور پر مشق کرانی چاہئے۔رسول کریم ملی یا فرماتے ہیں کہ نماز میں جس کی صف سیدھی نہیں اس کا دل ٹیڑھا ہے۔ہمیں جب عید کے موقع پر یا کسی جنازہ کے لئے کھلے میدان میں صفیں بندھوانی پڑتی ہیں تو باوجود پوری کوشش کے وہ ہمیشہ خراب رہتی ہیں کیونکہ مسجدوں میں