مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 562 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 562

562 خشت اول مچون نهد معمار سج تا ثریا رود دیوار سج یعنی اگر معمار پہلی اینٹ ٹیڑھی رکھتا ہے تو اس پر کھڑی کی جانے والی عمارت اگر ثریا تک بھی جاتی ہے تو ٹیڑھی ہی جائے گی۔پس بوجہ اس کے کہ تم پاکستان کی خشت اول ہو ، تمہیں اس بات کا بڑی احتیاط سے خیال رکھنا چاہئے کہ تمہارے طریق اور عمل میں کوئی کبھی نہ ہو کیونکہ اگر تمہارے طریق اور عمل میں کوئی کبھی ہو گی تو پاکستان کی عمارت ثریا تک ٹیڑھی چلتی چلی جائے گی۔بے شک یہ کام مشکل ہے لیکن اتنا ہی شاندار بھی ہے۔اگر تم اپنے نفسوں کو قربان کر کے پاکستان کی عمارت کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دو گے تو تمہارا نام اس عزت اور اس محبت سے لیا جائے گاجس کی مثال آئندہ آنے والے لوگوں میں نہیں پائی جائے گی۔پس میں تم سے کہتا ہوں کہ اپنی نئی منزل پر عزم استقلال اور علو حوصلہ سے قدم مارو۔قدم مارتے چلے جاؤ اور اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے قدم بڑھاتے چلے جاؤ کہ عالی ہمت نوجوانوں کی منزل اول بھی ہوتی ہے، منزل دوم بھی ہوتی ہے ، منزل سوم بھی ہوتی ہے لیکن آخری منزل کوئی نہیں ہوا کرتی۔ایک منزل کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری وہ اختیار کرتے چلے جاتے ہیں۔وہ اپنے سفر کو ختم کرنا نہیں جانتے۔وہ اپنے رخت سفر کو کندھے سے اتارنے میں اپنی ہتک محسوس کرتے ہیں۔ان کی منزل کا پہلا دور اسی وقت ختم ہوتا ہے جب کہ وہ کامیاب اور کامران ہو کر اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے حاضر ہوتے ہیں اور اپنی خدمت کی داد اس سے حاصل کرتے ہیں جو ایک ہی ہستی ہے جو کسی کی خدمت کی صحیح داد دے سکتی ہے۔پس اے خدائے واحد کے منتخب کردہ نوجوانو! اسلام کے بہادر سپاہیو! ملک کی امیدوں کے مرکز و قوم کے سپوتو ا آگے بڑھو کہ تمہارا خدا تمہارا دین تمہارا ملک اور تمہاری قوم محبت اور امید کے مخلوط جذبات سے تمہارے مستقبل کو دیکھ رہے ہیں۔“ فرموده ۲ اپریل ۱۹۵۰ء مطبوعه الفضل ۲۱ اکتوبر ۱۹۶۴ء)