مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 563
563 احمدی نوجوان توجہ کریں! مندرجہ بالا عنوان سے یہ نوٹ حضور کا ۲۰ اگست ۱۹۵۰ء کا تحریر فرمودہ ہے جو الفضل ۸ ستمبر ۱۹۵۰ء میں شائع ہوا۔(مرتب) ” دس سال سے تحریک کی سندھ کی زمینوں پر احمدی نوجوانوں کو لگایا ہوا ہے لیکن اس دس سال کے عرصہ میں انہوں نے ایک پیسہ کی آمد نہیں دی اور تمیں لاکھ کی جائیداد پر وہ قابض ہیں۔سچائی کی یہ حالت ہے کہ بجٹ بناتے وقت اگر دو لاکھ کا نفع دکھاتے ہیں تو سال کے آخر پر ستر ہزار کا گھاٹا دکھاتے ہیں۔مثال کے طور پر محمد آباد اسٹیٹ کا بجٹ ۵٬۲۵٬۶۳۶ تھا۔یہ وہ بجٹ تھا جو ان کا اپنا تحریر کردہ بجٹ تھا اور یہ وہ اندازے تھے جو ذلیل ترین پیداوار پر ہونے چاہئیں۔اگر کوئی دیانتداری سے کام لیتے ہوئے یہ کام کرے تو اس سے زیادہ پیداوار ہونی چاہئے کم نہیں لیکن جو نتیجہ پیدا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ ۷۲۲ ۱۰۰ و ۴ کی آمد پیدا کی۔گویا ۱۴,۹۱۴ وا کی کم آمدن پیدا کی اس کے مقابل پر خرچ کم نہیں کیا بلکہ خرچ ۴۹۸, ۹۴ زیادہ کیا۔خرچ کا بجٹ ۱۶۳ ۴٫۲۷٫ پیش کیا تھا اور عملاً ۵٫۰۵٫۲۲۰ خرچ کیا۔گویا ۷۸٫۰۵۷ زائد از بجٹ خرچ کیا اور یہ ایک سال کا حال نہیں بلکہ تحریک جدید کے نوجوان متواتر ایسا کر رہے ہیں۔بعض آٹھ آٹھ نو نو سال سے آئے ہوئے ہیں۔انہیں اس سے زیادہ کوئی غرض نہیں کہ انہیں کھانے کو مل جائے۔معلوم ہوتا ہے کہ انہیں نوکری کہیں نہیں ملی۔انہوں نے بے کار رہنے سے بہتر خیال کیا کہ وقف کر دیا جائے اور انہوں نے وقف کر دیا اور یہاں آگئے۔ان کے مقابلہ پر میری زمین پر ملازم کام کر رہے ہیں اور اس وقت تک ماشاء اللہ ہر سال نفع ہی دیتے ہیں۔اللہ تعالٰی آئندہ بھی انہیں ایسی بے ایمانی سے بچائے۔آمین۔میں نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ اگر احمدیت کے ابتدائی دنوں میں تمہارا یہ حال ہے تو آئندہ چند سالوں کے بعد تم کتنا گند کھاؤ گے۔پس اپنے لئے دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ ایسی گندگی اور غلاظت سے بچائے اور اپنی اصلاح کرنے کی کوشش کرو۔زندگی بے شک اسلام کے لئے وقف کرو۔اس لئے نہ کرو کہ ہم وہاں جا کر بیٹھ رہیں گے اور کوئی کام نہ کریں گے اور خرچ ملتا رہے گا۔" فرموده ۲۰ اگست ۱۹۵۰ء مطبوعه الفضل ۸ ستمبر ۱۹۵۰ء)