مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 44
44 ٹیکس مت دو تو حکومت کا باغی قرار پائیں گے۔آپ نے اس سوال کا جواب ایک اور سوال سے دیا کہ روم کے سپاہی آپ لوگوں سے کیا مانگتے ہیں۔اس کے جواب میں سوال کرنے والوں نے کہا کہ روپیہ مانگتے ہیں۔اس پر آپ نے کہا کہ روپیہ پر کس کی تصویر ہے۔سوال کرنے والوں نے کہا کہ روم کے بادشاہ کی۔اس پر آپ نے فرمایا۔جو چیز قیصر کی ہے وہ اسے دو اور جو خدا کی ہے وہ خدا کو دو۔(متی باب ۲۲ آیت ۲۱) اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تم سے فقط دین مانگتا ہوں ٹیکس بادشاہ کا حق ہے وہ اسے دو۔یہی ہم کہتے ہیں کہ جو چیز انگریز کی ہے وہ اسے دو۔انگریز ٹیکس مانگتا ہے جو اسے دینا چاہئے۔مگر ہم دن مانگتے ہیں۔انگریز دل نہیں مانگتا۔اور مانگ بھی نہیں سکتا جو تلوار روپیہ لیتی ہے وہ اس کے پاس ہے اور جو دل لیتی ہے وہ ہمارے پاس ہے۔پس میں پھر نصیحت کرتا ہوں کہ حزب اللہ بنو۔پھر دیکھو کس طرح اللہ تعالیٰ کی نصرت تمہیں کامیاب کرتی ہے۔اب بھی تمہیں اس کی نصرت حاصل ہے۔مگر پھر خصوصی اور فردی نصرت حاصل ہو گی۔آج کل کی نصرت کی مثال تو ویسی ہی ہے جیسے کسی کے گھر کو آگ لگے تو لوگ اس کا سامان اٹھا اٹھا کر باہر نکالتے ہیں۔عزت تو اس کی ہوتی ہے مگر ساتھ ہی اس کے نوکر کا سامان بھی باہر اٹھا لاتے ہیں۔محلہ کے لوگ بھی پہنچ جاتے ہیں۔فائر بریگیڈ بھی پولیس بھی فرض کرو مکان کسی گور نر یا ڈپٹی کمشنر کا ہو تو جس جوش سے لوگ اس کا سامان نکالتے ہیں اس جوش سے اگر اس کے نوکر کے گھر میں آگ لگے تو کبھی نہ نکالیں گے۔لیکن اسی نوکر کا سامان جب آقا کے سامان کے ساتھ ملا ہو تا ہے تو اس کو بھی احتیاط سے نکال لیا جاتا ہے۔لیکن یہ نکالنا طفیلی ہوتا ہے اسی طرح اب بھی اللہ تعالیٰ تمہاری مدد تو کرتا ہے۔مگر یہ لیکن اگر تم حزب الله مدد طفیلی ہے۔اگر تم حزب اللہ میں داخل ہو جاؤ تو اللہ تعالیٰ کی ذاتی نصرت حاصل ہو جائے گی میں داخل ہو جاؤ تو پھر تمہیں ذاتی نصرت بھی حاصل ہو گی اور طفیلی بھی۔اس وقت تمہاری نصرت اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ سمجھتا ہے اس کی ذلت سے سلسلہ کی ذلت ہوگی۔مگر حزب اللہ میں داخل ہونے کے بعد اس لئے بھی نصرت ہو گی کہ اللہ تعالیٰ کہے گا اس کی ذلت سے میری ذلت ہو گی۔اگر یہ بد نام ہوا تو چونکہ یہ میرا دوست ہے اس لئے مجھ پر الزام آئے گا کہ میں نے دوست سے وفاداری نہیں کی۔دیکھو اللہ تعالٰی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات میں کتنا عظیم الشان نشان دکھایا ہے۔گو تم نے اس زمانہ کو نہیں پایا۔مگر ہم نے اسے پایا اور دیکھا ہے۔پس اس قدر قریب کے زمانہ کے نشانات کو اپنے خیال کی آنکھوں سے دیکھنا تمہارے لئے کوئی زیادہ مشکل نہیں۔اور نشانات کو جانے دو بیت مبارک کو ہی دیکھو۔بیت مبارک میں ایک ستون مغرب بیت مبارک کی ترقی سے مشرق کی طرف کھڑا ہے۔اس کے شمال میں جو حصہ بیت کا ہے۔یہ اس زمانہ کی بیت تھی اور اس میں نماز کے وقت کبھی ایک اور کبھی دو سطریں ہوتی تھیں۔اس ٹکڑا میں تین دیوار میں ہوتی