مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 43
43 یہی کہیں گے کہ وہ باتیں سب جھوٹ تھیں۔اور ہمیں اس سلسلہ کی ادنی خدمت ہی زیادہ پسند ہے۔جھوٹ خواہ کسی بادشاہ کی زبان سے نکلے یا وزیر کی زبان ہے۔خواہ کسی وائسرائے کی زبان سے نکلے یا گور نر کی زبان سے آخر جھوٹ ہے اور جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ظلم کبھی کسی کو عزت نہیں دے سکتا اس لئے اگر تم ظلم کو نکال دو اور حزب اللہ میں داخل ہو جاؤ اپنے اندر سے علم کو نکال دو اور حزب اللہ میں داخل ہو جاؤ تو تمہیں کوئی خفیہ تدبیریں اور منصوبے جیسے آج بعض حکام کی مدد سے کئے جا رہے ہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے۔یہ سب جھاگ ہے اور جھاگ ہمیشہ مٹ جاتی ہے اور پانی قائم رہتا ہے۔ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ تم حزب اللہ بن جاؤ۔اسلام اور اللہ تعالیٰ کی محبت ، نیکی، سچائی ہمت اپنے دلوں میں پیدا کر و۔دنیا کی بہتری کی کوشش میں لگ جاؤ۔اور بنی نوع کی خدمت کا شوق اپنے دلوں میں پیدا کرو۔اسلام کا کامل نمونہ بن جاؤ۔پھر خواہ دنیا تمہیں سانپ اور بچھو بلکہ پاخانہ اور پیشاب سے بھی بد تر سمجھے تم کامیاب ہو گے اور خواہ کتنی طاقتور حکومتیں تمہیں مٹانا چاہیں۔وہ کامیاب نہیں ہو سکیں گی۔اور تم جو آج اس قدر کمزور سمجھے جاتے ہو۔تم ہی دنیا کے روحانی بادشاہ ہو گے۔میں یہ نہیں کہتا کہ تم کو دنیا کی بادشاہت مل جائے گی بلکہ میں تو یہ بھی نہیں کہتا کہ تم تحصیلدار بن جاؤ گے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ میں یہ بھی نہیں کہتا کہ تم ایک کانسٹیبل ہی بن جاؤ گے۔ظاہری حیثیت خواہ تمہاری چپڑاسی سے بھی بد تر ہو۔مگر دنیا پر قیامت نہیں آئے گی کہ جب تک کہ تم کو بادشاہوں سے بڑا اور تم پر ظلم کرنے والوں کو ادنی نوکروں سے بھی بد تر نہیں بنا دیا جائے گا۔قرآن کریم یہی بتاتا ہے کہ تم پر ظلم کرنے والوں کو جب تک ذلیل ترین وجودوں کی شکل میں اور تم کو معزز ترین صورت میں پیش نہ کیا جائے ، قیامت قائم نہیں ہو گی۔بے شک تم مر چکے ہو گے۔بلکہ تم میں سے بعض کی نسلیں بھی باقی نہ ہو نگی۔مگر نیک نامی کے مقابلہ میں نسلیں چیز ہی کیا ہیں۔آج یہ بحث ہوتی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی اولاد تھی یا نہیں۔لیکن کیا ان کی اولاد نہ ہونے سے یا اگر تھی تو معلوم نہ ہونے سے ان کی عزت کو کوئی نقصان پہنچا ہے۔ان کی زندگی میں روم کے بادشاہ کو شاید ان کا علم بھی نہ ہو۔مگر آج روم کی ہی حکومت نہیں۔بلکہ ویسی ہی بیسیوں اور حکومتیں ان کی روحانی بادشاہت کے ماتحت ہیں۔اٹلی، جرمنی، فرانس ، سپین ، آسٹریا، ہنگری، پولینڈ رومانیہ بلغاریہ اور چیکو سلاو یکیہ سب حضرت عیسی علیہ السلام کی روحانی رعایا ہیں۔اس زمانہ میں رومی سلطنت کا ایک چپڑاسی بھی آکر کہتا کہ چلئے آپ کو بلاتے ہیں تو آپ کی مجال نہ ہو سکتی تھی کہ انکار کریں۔اس وقت آپ کے مخالف آپ کو دکھ دینے کے لئے مشہور کرتے تھے کہ آپ حکومت کے دشمن ہیں اور خود بادشاہ بنا چاہتے ہیں جیسا کہ آج کل ہمارے مخالف ہمارے خلاف شور کرتے ہیں۔ایک دفعہ اس سلسلہ میں آپ سے سوال کیا گیا کہ کیا قیصر روم کو ٹیکس دینا جائز ہے۔اس سوال سے یہ غرض تھی کہ اگر تو ب کہیں گے کہ ٹیکس دینا جائز ہے تو یہودی کہہ سکیں گے کہ یہ شخص یہودیوں کا بادشاہ کس طرح ہو سکتا ہے جو روم کو ٹیکس دینا جائز قرار دیتا ہے۔اور اگر کہیں گے کہ