مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 519 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 519

519 کے بعد جو نظم پڑھی گئی ہے وہ بھی اس دستور کے مطابق کہ عموماً پہلے چند اشعار ٹھیک پڑھے جاتے ہیں اور پھر غلطیاں شروع ہو جاتی ہیں۔اسی طرح انہوں نے بھی ساتھ آٹھ اشعار تو ٹھیک پڑھے اور اس کے بعد غلطیاں شروع کر دیں۔جب جلسہ میں کوئی شخص تلاوت کرتا ہے یا نظم کے لئے کھڑا ہو تا ہے تو اس چھوٹی سی عبارت کا مجلس میں پڑھ لینا کوئی مشکل امر نہیں ہوتا اور اگر وہ خود اسے صحیح طور پر ادا نہیں کر سکتا تو کسی واقف زبان سے اسے درست کروالینا اس کے لئے کوئی مشکل نہیں ہوتا۔یہ قدرتی بات ہے کہ ایسی صورت میں سننے والے بجائے فائدہ اٹھانے کے لفظی غلطیوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں اور اس طرح فائدہ سے محروم ہو جاتے ہیں اس لئے میں نصیحت کرتا ہوں کہ خدام صحیح طور پر قرآن کریم کو پڑھنا سیکھیں اور اردو کی عبارتوں کو بھی صحیح ادا کرنے کی کوشش کیا کریں۔ایڈریس میں جن کاموں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے میں ان سے خوش ہوں کہ انہوں نے ان کاموں کے کرنے کی کوشش کی ہے لیکن میں ان کی توجہ اس طرف پھرانا چاہتا ہوں کہ جس کام کے لئے ہم کھڑے ہوئے ہیں وہ اتنا عظیم الشان ہے کہ اس کے لئے یہ کو ششیں کافی نہیں ہو سکتیں۔مخالف ہمارے مقصد کو نہیں سمجھتا تو وہ معذور ہے۔اگر وہ ہمیں اپنے مقصد کو پیش نظر رکھنا چاہئے صدر یا ناواقفیت کی وجہ سے ہماری مخالفت کرتا ہے تو کوئی اعتراض کی بات نہیں۔وہ تو اس پر غور کرنا ہی نہیں چاہتا یا اگر غور کرتا ہے تو تعصب کی وجہ سے وہ صحیح نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتا لیکن اگر ہم بھی اپنے مقصد کو نہ سمجھیں اور ہمارا بھی رویہ ایسا ہی ہو کہ ہم اپنے مقصد کو سمجھنے کی کوشش نہ کریں تو ہم پر یقینا افسوس ہو گا۔ہما را دعوئی ہے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہمارا ہمارا مقصد رسول کریم ملی ایم کی حکومت کا قیام دعوئی سچا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نازک حالت کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا اور اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ کی جماعت کے ذریعہ وہ رسول کریم میل کی حکومت کو پھر سے دنیا میں قائم کر دے۔یہ مقصد ہے جس کے لئے ہمیں کھڑا کیا گیا ہے اور جس کی خدا تعالیٰ ہم سے امید کرتا ہے اور یہ معمولی چیز نہیں۔ایک انسان کے لئے ایک انسان کی اصلاح بھی ناممکن ہے مگر ہم نے تمام دنیا کی اصلاح کرنی ہے۔اسلام کے ماننے والوں میں سے کتنے ہیں جو خوشی سے ان احکام کو مانتے ہیں اور ان پر عمل کرنے کے لئے تیار ہیں۔پھر جو منہ سے کہتے ہیں کہ ہم اسلام کے احکام پر عمل کرنے کے لئے تیار ہیں ان میں سے کتنے ہیں جو واقعہ میں عمل کرنے کے لئے تیار ہیں اور پھر جو عمل کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں ان میں سے کتنے ہیں جو ان پر عمل کر کے صحیح طور پر کامیاب ہوئے ہیں۔پہلا سوال تو یہ ہے کہ وہ اسلام کے معنے ہی نہیں سمجھتے۔ہر آدمی ایسی چیزوں اور عقائد کو جو رسم و رواج میں داخل ہیں، الگ کر لیتا ہے اور کہتا ہے کہ ان کو