مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 509 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 509

509 مکہ میں برابر تیرہ سال تک تبلیغ کی لیکن بہت تھوڑے لوگ آپ پر ایمان لائے۔گویا ایک لمبے عرصہ تک آپ کی قربانیاں بے کار نظر آتی رہیں کیونکہ تیرہ سال کے عرصہ میں کل اسی آدمی مسلمان ہوئے۔گویا چھ سات آدمی فی سال۔بعض روایات میں دو تین سو کے درمیان بھی ان کی تعداد بیان کی گئی ہے۔بہر حال تیرہ سال میں دو تین سو آدمی مسلمان ہونا بھی کوئی زیادہ امید افزا چیز نظر نہیں آتی۔اگر بارہ سال میں تین سو آدمی سمجھے جائیں تو اس لحاظ سے مزید بارہ سالوں میں تین سو آدمی اور مسلمان ہو سکتے تھے لیکن ہجرت کے بعد جس طرح اسلام نے ترقی کی وہ امید سے لاکھوں گنا بڑھ کر ہے۔جو نہی مدینہ والوں نے ہجرت کی دعوت دی لوگوں نے بے تحاشا اسلام قبول کرنا شروع کر دیا اور وہ اپنے گھر بار چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔تاریخوں سے پتہ لگتا ہے کہ صبح کے وقت محلوں کے محلے خالی نظر آتے تھے۔لوگ راتوں رات کوچ کر کے نکل جاتے تھے۔غرض بظاہر پہلے بارہ سال بے کار نظر آتے تھے لیکن وہ بے کار نہیں تھے بلکہ انہی سالوں کے نتیجہ میں مکہ کے لوگوں کے دلوں میں اسلام نے گھر کیا اور ہجرت کا راستہ کھلنے پر وہ یکدم مسلمان ہو نا شروع ہو گئے۔یوں تو اسلام کی سچائی ان پر پہلے ہی ظاہر ہو چکی تھی لیکن وہ ڈر کے مارے اپنے آپ کو ظاہر نہیں کرتے تھے۔جب ہجرت کا رستہ کھل گیا تو وہ نڈر ہو گئے اور انہوں نے سرعت کے ساتھ اسلام قبول کرنا شروع کر دیا۔اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ ابتدائی حالت میں بعض چیزوں کی قربانی بے کار نظر آتی ہے لیکن بعد میں اس کے نتائج ظاہر ہونے پر انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ قربانی بے کار نہیں گئی۔دنیا میں اس وقت بعض جزائر ہیں جو کہ مونگے کے جزائر کہلاتے ہیں۔مونگا سمندروں میں ایک کیڑا ہوتا ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو سبق دینے کے لئے یہ مادہ پیدا کیا ہے کہ مونگوں کے جھول کے جھول آتے ہیں اور وہ پانی کی تہہ میں گر کر جان دے دیتے ہیں۔پھر کچھ اور جھول آتے ہیں اور وہ بھی اسی جگہ جہاں پہلے مونگوں نے جان دی تھی گر کر جان دے دیتے ہیں۔ساتھ ! ستر یا سو سال تک وہ اسی طرح مرتے چلے جاتے ہیں اور ان پر مٹی کی تہیں چڑھتی چلی جاتی ہیں۔آخر امتداد زمانہ کی وجہ سے وہ مونگے پتھروں وغیرہ کی شکل میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور وہاں ایک جزیرہ بن جاتا ہے۔اگر مونگے بھی دماغ رکھتے۔اگر مونگوں میں بھی عقل ہوتی۔اگر مونگے بھی سوچ سکتے۔اگر مونگے بھی قلم سے لکھ سکتے تو ممکن ہے بعض مونگے اپنی قوم کے افراد کو سخت بے وقوف اور احمق گردانتے کہ بغیر فائدہ کے وہ جانیں دیتے چلے جاتے ہیں۔لیکن بعد میں جو ان کے پوتے پڑ پوتے یا ان کے پڑپوتوں کے پڑپوتے آتے تو وہ کہتے کہ ہمارے آباؤ اجداد کتنے بے وقوف تھے کہ وہ اپنی قوم کی قربانیوں کو بے کار سمجھتے تھے۔ہماری قوم کی قربانیاں بے کار نہیں تھیں بلکہ ان سے نئے نئے ملک آباد ہو رہے تھے اور ہمیں ایک مستقل پوزیشن حاصل ہو رہی تھی۔پس کوئی قربانی بھی بے کار نہیں ہوتی۔گو ابتداء میں بے کار ہی نظر آئے لیکن بعد میں اس کے عظیم الشان نتائج ضرور ظاہر ہوتے ہیں بلکہ در حقیقت قربانی کے