مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 508
508 اور کہا باد شاہ سلامت اس طرح روپیہ خرچ ہو گا۔بادشاہ نے کہا کچھ پرواہ نہیں پھر چند گز اور کشتی آگے چلی تو اس نے ایک اور تحصیلی اٹھائی اور دریا میں پھینک دی اور کہا بادشاہ سلامت اس طرح روپیہ خرچ ہو گا۔بادشاہ نے کہا کچھ پرواہ نہیں۔چند قدم اور کشتی آگے گئی تو اس نے تیسری تھیلی اٹھائی اور دریا میں پھینک دی اور کہا۔بادشاہ سلامت عمارت بن تو جائے گی لیکن شائد آپ میری بات کو نہیں سمجھے۔اس طرح روپیہ خرچ ہو گا۔بادشاہ نے کہا کوئی بات نہیں۔پھر چند قدم اور کشتی آگے چلی تو اس نے چوتھی تھیلی اٹھائی اور دریا میں پھینک دی اور کہا بادشاہ سلامت شاید میں اپنی بات کو پوری طرح واضح نہیں کر سکا۔عمارت تو بن جائے گی لیکن اس طرح روپیہ خرچ ہو گا۔بادشاہ نے کہا کوئی بات نہیں۔اس طرح ہر دفعہ چند قدم کے بعد وہ انجینیئر ایک تحصیلی دریا میں پھینک دیتا اور کہتا کہ بادشاہ سلامت ! اس طرح روپیہ خرچ ہو گا۔یہانتک کہ اس نے دو لاکھ روپیہ دریا میں پھینک دیا۔لیکن بادشاہ کے چہرے پر ذرا بھی ملال، کے آثار ظاہر نہ ہوئے۔دوسرے کنارے پر پہنچ کر اس نے کہا۔بادشاہ سلامت ! اب عمارت ضرور بن جائیگی۔بادشاہ نے کہا کہ تم تو سمجھ گئے ہو لیکن دوسرے کیوں نہیں سمجھے۔اس نے کہا۔بادشاہ سلامت !بات دراصل یہ ہے کہ جس قسم کا آپ نقشہ بتاتے ہیں اس کے لئے کروڑوں روپے کی ضرورت ہے اور انجیر وں نے ایک حد تک اندازہ لگایا کہ بادشاہ استنار و پیہ دے سکتا ہے اس سے زیادہ نہیں اور اگر اس میں وہ عمارت تیار نہ ہو سکی تو ہمیں بجائے عزت کے ذلت نصیب ہوگی لیکن میں نے آپ کا حوصلہ آزما لیا ہے اور میں سمجھ گیا ہوں کہ مجھے جس قدر روپے کی ضرورت ہو گی، آپ بلا دریغ خرچ کرتے چلے جائیں گے اس لئے مجھے اس عمارت کے بنانے کا حوصلہ ہو گیا ہے چنانچہ اس انجینئیر نے بادشاہ کے منشاء کے مطابق عمارت بنا کر دکھا دی۔در حقیقت تاج محل بنانے میں بادشاہ کو جتنی قربانی کرنی پڑی تھی وہ ہماری قربانی کا کروزواں حصہ بھی نہیں۔کجا ایک طرف تاج محل کا بنانا اور گجار وحانی لحاظ سے ایک نئی دنیا اور نیا آسمان بنانا۔نئی دنیا اور نئے آسمان کے بنانے کے لئے تو ہمیں کروڑوں گئے زیادہ قربانی کی ضرورت ہے۔ہم نے ایسی عمارت بنانی ہے جو دنیا کے ذہنوں اور دنیا کے خیالات کو بدل ڈالے۔ہم نے ایسی عمارت تیار کرنی ہے جو دنیا کی تہذیب اور دنیا کے تمدن کو بدل ڈالے۔ہم نے ایسی عمارت بنانی ہے جو دنیا کے خیالات اور جذبات کو بدل ڈالے۔کیا ایسی عمارت بغیر عظیم الشان قربانیوں کے تیار ہو سکتی ہے۔ابتداء میں ایک لمبے عرصہ تک قربانیوں کا بظاہر کوئی نتیجہ نظر نہیں آتا اور انسان یہ سمجھتا ہے کہ میری قربانیاں رائیگاں گئیں۔لیکن در حقیقت وہ بے کار نہیں ہوتیں بلکہ با کار ہوتی ہیں اور کچھ عرصے کے بعد وہی قربانیاں بار آور ہو جاتی ہیں۔رسول کریم ﷺ نے