مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 42
42 کو بھی لوگ گالیاں دیا کریں گے۔مگر آج نہ صرف تمام اس علاقہ میں جہاں امام حسین کو گالیاں دی جاتی تھیں۔بلکہ دوسرے علاقوں میں بھی کیونکہ بعد میں اسلامی حکومت اور بھی وسیع ہو گئی تھی۔گو وہ ایک بادشاہ کے ماتحت نہ رہی۔سب جگہ یزید کو گالیاں دی جاتی ہیں اور حضرت امام حسین کی عزت کی جاتی ہے۔گو آپ نبی نہ تھے صرف ایک برگزیدہ انسان تھے اور حق کی خاطر کھڑے ہوئے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو کامیابی دی۔بظاہر دشمن یہ سمجھتا ہو گا کہ اس نے آپ کو شہید کر دیا۔مگر آج اگر یزید دنیا میں واپس آئے (اگر چہ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت نہیں کہ مردے دنیا میں واپس آئیں تو کیا تم میں سے کوئی یہ خیال کر سکتا ہے کہ وہ یزید ہونے کو پسند کرے گا۔جس دن حضرت امام حسین شہید ہوئے۔وہ کس قدر غرور اور فخر کے ساتھ اپنے آپ کو دیکھتا ہو گا اور اپنی کامیابی پر کس قدر نازاں ہو گا۔لیکن آج اگر اسے اختیار دیا جائے کہ وہ امام حسین کی جگہ کھڑا ہو نا چاہتا ہے یا یزید کی جگہ تو وہ بغیر ایک لمحہ کے توقف کے کہہ اٹھے گا کہ میں دس کروڑ دفعہ امام حسین کی جگہ کھڑا ہونا چاہتا ہوں۔اور اگر حضرت امام حسین سے کہا جائے کہ وہ یزید کی جگہ ہونا پسند کریں گے یا اپنی جگہ تو وہ بغیر کسی لمحہ کے توقف کے کہہ اٹھیں گے کہ دس کروڑ دفعہ اسی جگہ پر جہاں وہ پہلے کھڑے ہوئے تھے۔کسی اور سے فیصلہ کرانے کی ضرورت نہیں۔اگر یزید خود آئے تو اس کا اپنا فیصلہ بھی یہی ہو گا۔فرعون اپنے زمانہ حکومت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کیا سمجھتا ہو گا۔وہ ہنستا اور کہتا تھا کہ یہ شخص پاگل ہے۔اس کا دماغ خراب ہے۔قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے اپنی قوم کو مخاطب کر کے کہا کہ یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے مجنون ہے۔لیکن اگر آج فرعون کی روح دوبارہ دنیا میں لائی جائے تو بتاؤ کیا وہ اسی تخت پر بیٹھنا پسند کرے گا یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ادنیٰ خادموں میں کھڑا ہونا۔وہ بغیر ایک لمحہ کے سوچنے کے کہہ اٹھے گا کہ میں موسیٰ کے ادنی ترین خادموں میں کھڑا ہو نا زیادہ پسند کرتا ہوں۔حضرت عیسی علیہ السلام کو جن لوگوں نے پھانسی دی۔وہ افسر اور وہ مجسٹریٹ جس نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ شخص حکومت کا مخالف اور لائق تعزیر ہے۔اور وہ علماء جنہوں نے یہ کہا کہ یہ اپنی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے۔اگر آج انہیں دوبارہ دنیا میں لایا جائے اور پوچھا جائے کہ بقول ان کے وہ ذلیل ، ا چھی جو اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھے۔ان کے ساتھ کھڑا ہونا وہ زیادہ پسند کریں گے یا اس بات کو کہ ان کو روم کا شہنشاہ بنا دیا جائے۔تو وہ ایک منٹ کے لئے بھی غور کئے بغیر کہ اٹھیں گے وہ ان ماچھیوں کی رفاقت کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔آج پیٹر اور یعقوب کے نام پر کروڑوں عیسائی جان دینے کے لئے تیار ہیں۔مگر اس زمانہ کے گورنروں اور ڈپٹی کمشنروں کو کوئی جانتا بھی نہیں۔پس تم میں سے بھی جو حزب اللہ میں اپنے آپ کو شامل کرلے گا اللہ تعالی کی نصرت اس کی ویسی ہی مدد کرے گی۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ گھبرا جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حکومت کے بعض مجسٹریٹ جماعت کے خلاف بہت برے ریمارکس کرتے ہیں۔مگر انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ایسے ہی ریمارکس حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ علیہم السلام کے زمانہ میں ہوتے تھے۔رسول کریم میلی لی کے زمانہ میں بھی ایسی باتیں کہی جاتی تھیں۔لیکن انہیں بادشاہوں اور گورنروں اور افسروں کو اگر سو دو سو سال بعد دنیا میں لایا جائے تو