مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 500 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 500

500 ہو گئی۔میں نے پوچھا کیا غلطی؟ وہ کہنے لگے دیکھو یا عیسی انی متوفیک۔۔۔۔الخ کے مرزا صاحب ہمیشہ یہی معنے کرتے رہے کہ اے عیسی میں تجھے وفات دوں گا حالانکہ اس کا مطلب صاف ہے کہ اے عیسیٰ میں تیرے چہلم کی روٹی پکاؤں گا۔اب میں نے سمجھا کہ اس کی حالت دگرگوں ہو رہی ہے۔اتنے میں ایک اور پاگل دوڑتا ہوا آیا اور پٹیالہ والے سے مخاطب ہو کر بڑے جوش کے ساتھ کہنے لگا الاؤ میرے چھ پیسے نکالو میرے چھ پیسے۔اس نے کہا میرے پاس نہیں ہیں۔مگر وہ مانگنے والا اسی جوش میں چھ پیسوں کا مطالبہ کرتا جائے۔میں نے اپنی جیب سے ایک دونی نکال کر اس کو دی۔اس کے بعد پٹیالہ والے مولوی صاحب کا رنگ متغیر ہونا شروع ہوا اور وہ جوش میں آکر کہنے لگے یہی محمود غزنوی ہیں جنہوں نے بٹھنڈ ا فتح کیا تھا۔اب مجھ پر عقدہ کھلا کہ ڈاکٹر صاحب کا وہم واقعی کسی حد تک درست ہے اور ایسے لوگوں میں اتنا عرصہ رہنے سے اگر خود بھی پاگل ہونے کا خطرہ پیدا ہو جائے تو کوئی عجیب بات نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اندازے کی غلطیوں کا نام ہی جنون ہے۔پس میں نوجوانوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا تمہاری زندگیاں ٹھیک اسی تمہارے ذمہ کتنا بڑا کام ہے طرح کاموں میں لگی ہوئی ہیں جیسا کہ تمہارا ادعا ہے۔تم کہتے ہو ہم ساری دنیا میں اسلام کا پرچم لہرائیں گے مگر تمہارا عملی پہلو اس کے مطابق نظر نہیں آتا۔تم میں سے بعض ذکر الہی میں کمزور ہیں۔بعض نمازوں میں سستی کرتے ہیں۔دینی مطالعہ کی پرواہ نہیں کرتے۔لغو باتیں کرتے رہتے ہیں۔تمہارے ذے کتنا بڑا کام لگایا گیا ہے مگر تمہیں اس کا احساس تک بھی نہیں ہے اور تمہیں اپنے کام کی طرف پوری توجہ نہیں ہے۔لوگوں نے آہستہ آہستہ ہر قسم کے دنیوی علوم پر قبضہ کر لیا ہے مگر تمہاری آنکھ ہی نہیں کھلتی۔آج میں تمہیں واضح طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کہ خالص مذہب دنیا میں کبھی ہر قسم کے لوگوں میں تغیر پیدا نہیں کر سکا یعنی یہ کبھی نہیں ہوا کہ سب لوگ تبلیغ سے ہی مان گئے ہوں۔آخر ایک وقت ضرور ایسا آتا ہے جب کہ دوسرے امور میں بھی مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔پس جب تک تم مخالف کے مقابلہ میں ہر قسم کے دنیوی علوم نہیں سیکھو گے اور ان علوم میں امتیازی مقام حاصل نہیں کرو گے اس وقت تک وہ تمہاری فوقیت کا اقرار نہیں کرے گا۔تمہیں چاہئے کہ تم دینی علوم کے ساتھ ساتھ دنیوی علوم کے بھی ماہر ہو اور ہر فن میں دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش کرو۔ایک دفعہ حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کسی مباحثہ میں گئے۔وہاں لوگوں نے تمسخر اور استہزاء شروع کر دیا۔آخر مولوی صاحب کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا ہنسی اور ٹھٹھے کی کیا ضرورت ہے۔تمہارا مولوی اگر قرآن کے علم میں مقابلہ کرنا چاہتا ہے تو کر لے۔حدیث میں مقابلہ کرنا چاہتا ہے تو کر لے۔فقہ میں مقابلہ کرنا چاہے تو کر لے۔عربی فارسی اور اردو کی تقریر میں مقابلہ کرنا چاہے تو کر لے اور اگر شعر اور ڈھولے بولنا چاہے تو بولے اور اگر اسے اپنی طاقت پر ناز ہے تو میرے ساتھ بینی پکڑلے۔اس پر وہ سب خاموش ہو گئے۔پس دنیا میں ہر فن کے مقابلہ کی مہارت ہونی چاہئے۔جب تک تم میں ہر قسم کے فنون کے ماہر نہ ہوں تم دوسروں کا کس طرح مقابلہ کر سکو گے۔پس اپنی ہمتوں کو بلند کرو اور اگر ایک منٹ بھی