مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 489
489 اپنے اندر تبدیلی پیدا کر کے وہ نئی زندگی حاصل نہیں کرتے جو صحابہ نے حاصل کی اس وقت تک نہ ہم ترقی کر سکتے ہیں اور نہ ہم یہ امید کر سکتے ہیں کہ ہم خدا کے خاص منعم علیہ گروہ میں شامل ہو جائیں گے۔خدا اس وقت دنیا میں ایک عظیم الشان روحانی انقلاب پیدا کرنا چاہتا ہے اور ایک بہت بڑا تغیر اس کے حضور مقدر ہے مگر وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے اور افسوس ہے کہ ہماری جماعت نے اس کا ایک حصہ سونے میں گزار دیا ہے۔ہمارے سلسلہ کو قائم ہوئے چھپن سال گزر چکے ہیں۔چھپن سال میں انسان بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جاتا ہے۔بے شک بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے ستر پچھتر سال کی عمر میں بھی مضبوط قوی ہوتے ہیں لیکن گورنمنٹ پچپن سال کی عمر پر اپنے ملازموں کو پنشن دے دیا کرتی ہے۔پس تم پر اب اتنی عمر گزرچکی ہے کہ جس عمر پر بر گور نمنٹ لوگوں کو پنشن دے دیا کرتی ہے مگر باوجود اس کے کہ تم پنشن کی عمر کو پہنچ چکے ہو ، تم نے ابھی پہلا گریڈ بھی حاصل نہیں کیا۔یہ کتنے افسوس کی بات ہے۔یہ کتنے رنج کی بات ہے۔یہ کتنے غم اور فکر کی بات ہے۔پس اپنے اندر تغیر پیدا کرو اور اپنے دماغوں میں ایک نیک تبدیلی رونما کرو۔جس طرح سان پر چاقو چڑھایا جاتا ہے اسی طرح جب تک خدا تعالیٰ کی خشیت کی سان پر تم اپنے دماغوں کو نہ چڑھاؤ گے ، جب تک تم اپنی زندگی خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے بسر نہیں کرو گے اور جب تک تم مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ کا کامل نمونہ نہیں بنو گے اس وقت تک تم سے کسی کام کی امید رکھنا یا خیال کر لینا اسلام یورپین اقوام کے مقابلہ میں جیت جائے گا ایک حماقت اور جنون کی بات ہو گی۔یورپین اقوام کے مقابلہ میں تم کس طرح جیت سکتے ہو جب کہ یورپین اقوام تم سے دس گنے زیادہ کام کرتی ہیں اور جرمن تم سے ہیں گنے زیادہ کام کرتے ہیں۔یہی حال دوسری اقوام کا ہے کہ وہ بہت زیادہ محنت اور بہت زیادہ جفا کشی سے کام لینے کے عادی ہیں اور جرمنوں اور امریکنوں اور انگریزوں کے مقابلہ میں تمہارے کاموں اور قربانیوں کی کوئی نسبت ہی نہیں ، بلکہ عیسائی آج دنیوی اغراض کے لئے جو قربانیاں کر رہے ہیں وہ تم خدا کے لئے نہیں کر رہے۔پس تمہارا اور ان کا مقابلہ ہی کیا۔بسا اوقات لوگ سوال کیا کرتے ہیں کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں اس کے نیک نتائج کیوں پیدا نہیں ہوتے اور کیوں اسلام کی فتح کا دن قریب سے قریب تر نہیں آجاتا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم جو کچھ پیش کرتے ہیں وہ محض ذہنی باتیں ہوتی ہیں اور لوگوں کے دل صرف ذہنی باتوں سے تسلی نہیں پاسکتے۔یورپ میں جو لوگ اسلام قبول کرتے ہیں وہ صرف اس تعلیم کی وجہ سے قبول کرتے ہیں جو قرآن کریم اور احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں میں درج ہے اور جس کے محاسن کو پیش کر کے ہم لوگوں کے قلوب کو فتح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔مگر وہ ہزاروں ہزار آدمی جو اسلام کے محاسن کو دیکھ کر فریفتہ ہو جاتے ہیں ، جب ہماری جماعت کے اعمال پر نگاہ دوڑاتے ہیں تو ان کا جوش ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ان کی خوشی سرد ہو جاتی ہے اور وہ وہیں کے وہیں رہ جاتے ہیں۔پہلے تو وہ خیال کرتے ہیں کہ شاید آسمان سے ہمارے لئے ایک ایسا علاج نازل ہوا ہے جس سے ہمارے مزمن امراض دور ہو جائیں گے اور ہم بھی خوشی اور مسرت کی زندگی بسر کر سکیں گے مگر جب وہ ہماری طرف نگاہ دوڑاتے ہیں تو انکے تمام ولولے دب