مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 490 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 490

490 جاتے ہیں اور وہ کہتے ہیں افسوس ابھی ہماری بیماری کے جانے کا وقت نہیں آیا۔وہ پھر کفرستان میں چلے جاتے ہیں۔پھر خدا کا خانہ خالی رہ جاتا ہے۔پھر شیطان کی حکومت دلوں پر قائم ہو جاتی ہے اور پھر رحمانی فوجوں کو شیطان سے بر سر پیکار ہونا پڑتا ہے۔پس جب تک تم اپنے اندر تبدیلی پیدا نہیں کرتے۔جب تک تم اپنے اعمال تم آسمان کی مخلوق ہو سے یہ بتا نہیں دیتے کہ اب تم وہ نہیں رہے جو پہلے ہوا کرتے تھے بلکہ تم تمام محنت کرنے والوں سے زیادہ محنت کرنے والے اور تمام قربانی کرنے والوں سے بڑھ کر قربانی کرنے والے ہو۔تم زمین کے نہیں بلکہ آسمان کی مخلوق ہو۔اس وقت تک تم دنیا میں کوئی تغیر پیدا نہیں کر سکتے۔لیکن اگر تم میں یہ اوصاف پیدا ہو جائیں تب اور صرف تب دنیا کے لوگ تمہاری طرف متوجہ ہوں گے۔وہ تمہاری طرف پیاسوں کی طرح دوڑتے چلے آئیں گے۔وہ تم سے علاج اور مداری کے طلبگار ہوں گے کیونکہ وہ تمہارے چہروں پر وہ چیز دیکھیں گے جس کے دیکھنے کے وہ دیر سے متمنی اور خواہشمند ہیں اور تمہارے ذریعہ انہیں وہ چیز ملے گی جو دنیا میں اور کہیں نہیں مل سکتی۔تمہارے ذریعہ سے وہ گرم گرم ہوائیں چلیں گی جو کفر کی سردیوں کو بالکل دور کر دیں گی اور تمہارے قلب میں سے تسکین کی وہ شعائیں نکلیں گی جو گناہوں کی آگ کو بالکل سرد کر دیں گی۔یہ لازمی بات ہے کہ جس کی ضرورت جس دوکان سے پوری ہو جائے وہ اسی دوکان پر جاتا ہے۔جب تک دنیا کے لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ ان کی ضرورتیں تمہارے ذریعہ سے پوری نہیں ہو رہیں اس وقت تک انہیں تمہاری طرف توجہ پیدا نہیں ہو سکتی۔وہ کہتے ہیں اگر ہم عیسائی ہیں تو عیسائی ہی مریں گے۔ہندو ہیں تو ہندو ہی مریں گے۔سکھ ہیں تو سکھ ہی مریں گے۔ان کے دلوں میں یہ تڑپ پیدا نہیں ہوتی کہ تمہارے پاس آئیں اور اپنی ضرورت کی چیز تم سے حاصل کریں کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ تمہاری دوکان بھی دوسری دوکانوں کی طرح خالی پڑی ہے اور تمہاری دوکان ان کی ضرورت کو پورا کرنے سے قاصر ہے لیکن جس دن ان کے کانشس تلی پا جائیں گے اور وہ کامل یقین کے ساتھ اس نتیجہ پر پہنچ جائیں گے کہ جس چیز کی انہیں تلاش ہے وہ صرف اور صرف تمہارے پاس ہے اور وہ تمہارے چہروں سے اس نور کا مشاہدہ کریں گے جس نور کی تلاش میں وہ سرگرداں پھر رہے ہیں تو تم دیکھو گے کہ دنیا کی کوئی بندش ان کو روک نہیں سکتی۔کوئی قید ان کو ڈرا نہیں سکتی۔کوئی طاقت ان کو متزلزل نہیں کر سکتی۔نہ ان پر اپنے بھائیوں کا اثر ہو گا نہ بہنوں کا نہ ماں باپ کا اثر ہو گا نہ دوسرے عزیز و اقارب کا۔خاوند اپنی بیویوں کو چھوڑ کر بیویاں اپنے خاوندوں کو چھوڑ کر بیٹے اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر ماں باپ اپنے بیٹوں کو چھوڑ کر دوست اپنے دوست کو چھوڑ کر اور رشتہ دار اپنے رشتہ دار کو چھوڑ کر دیوانہ وار تمہاری طرف دوڑتے چلے آئیں گے اور کہیں گے ہم تو اس دن کو ترس گئے۔مدتوں کی تلاش اور جستجو کے بعد ہمیں آج پتہ لگا کہ وہ قیمتی متاع جس کی ہمیں تلاش تھی وہ تمہارے پاس ہے۔ہم اس کے حصول کے لئے اپنی ہر چیز قربان کرنے کو تیار ہیں بشرطیکہ ہمارے دلوں کی آگ سرد ہو جائے۔ہمارے قلوب کی خلش دور ہو جائے اور ہماری بے تابی راحت اور