مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 466

466 خدام الاحمدیہ ایسی کھیلیں رائج کریں جو آئندہ زندگی میں بھی کام آئیں " آج خدام الاحمدیہ کو ایک اور ہدایت دینا چاہتا ہوں۔یہ ہدایت پہلے بھی میں بارہا دے چکا ہوں کہ نوجوانوں میں ایسی کھیلیں رائج کی جائیں جو ان کی آئندہ زندگی میں کام آئیں۔میں ۱۹۴۱ء سے یہ بتاتا چلا آ رہا ہوں لیکن ابھی تک خدام نے اس طرف توجہ نہیں کی۔مثلاً دوڑنے کی مشقیں ہیں۔آگ بجھانے کی مشق ہے۔آگ میں سے کود کر نکلنے کی مشق ہے۔اونچی جگہ سے کودنے کی مشق ہے۔تیرنے کی مشق ہے۔یہ سب ہنر ایسے ہیں جن سے مردانگی پیدا ہوتی ہے اور یہ باتیں آئندہ زندگی میں کام آتی ہیں۔اس کے علاوہ کان ناک اور آنکھ کی قوتیں بڑھانے کے متعلق میں نے کہا تھا۔مشق کرنے سے یہ قوتیں زیادہ تیز ہو جاتی ہیں اور ایسا آدمی جس کی یہ قوتیں تیز ہوں بہت سے ایسے کام کر سکتا ہے جسے عام آدمی نہیں کر سکتے"۔اس کے بعد حضور نے باری باری دریافت فرمایا کہ گذشتہ تین ماہ میں بحیثیت خدام الاحمدیہ تیرنا‘ کان ناک اور آنکھ کی قوت بڑھانے کی مشق یا آگ بجھانے کی مشق کتنے خدام نے کی ہے مگر کسی سوال کے جواب میں کوئی خادم کھڑا نہ ہوا۔اس پر حضور نے فرمایا:۔" سارے کاموں میں صفر ہے تو پھر کام کیا ہوا۔اگر امام کا بتایا ہوا کام نہیں کیا جاتا تو جو کچھ کیا جاتا ہے وہ صفر کے برابر ہے حالانکہ امام کا بتایا ہوا کام کرنے سے ہی اچھے نتائج نکل سکتے ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ الفضل میں بھی خدام الاحمدیہ کی طرف سے یہ تو شائع ہوتا رہتا ہے کہ خدام یوں کریں اور ووں کریں مگر عملی طور پر کچھ نہیں کیا جاتا۔تم ایسے لوگوں کو الگ کرو اور کام کرنے والوں کے سپرد کام کرو۔یہ کام کرنے کا طریق نہیں کہ باتیں کرتے رہیں مگر عملی طور پر کچھ بھی نہ کریں۔اعلانات کی بجائے اگر خدام کچھ کر کے دکھا ئیں تو باہر کے خدام بھی سمجھ لیں گے کہ انہیں کیا کرنا چاہئے لیکن چونکہ یہاں کے خدام زیادہ کام نہیں کرتے اس لئے باہر کے خدام پر بھی ان کا اثر نہیں پڑتا۔وہ سمجھتے ہیں کہ جس قدر کام مرکز میں خدام کر رہے ہیں وہ ہم بھی کر رہے ہیں۔ان کے ہاتھ میں الفضل ہے اس۔وہ اعلانات کر لیتے ہیں، ہمارے ہاتھ میں الفضل ہوتا تو ہم بھی اعلانات کرتے رہتے"۔فرموده ۲ جون ۱۹۴۶ء۔مطبوعہ الفضل ۳۰ ستمبر ۱۹۶۰ء)