مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 37
37 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا ہے۔ظاہری حالات کے لحاظ سے آپ کو ایسے وقت میں بھیجا گیا ہے کہ دنیا میں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ دعوی عقل کے مطابق ہے۔اسلام جس صورت میں رسول کریم میں میں لائے ، مٹ چکا ہے اور ہر دنیا دار یہ سمجھتا ہے کہ پھر اسی صورت میں قائم نہیں کیا جا سکتا۔آج ایک مسلمان بھی ایسا نہیں ملے گا جو دیانتداری سے یہ سمجھتا ہو کہ اسلامی پر وہ پھر دنیا میں قائم کیا جا سکتا ہے اور غیر تو ایک منٹ کے لئے بھی یہ خیال دل میں نہیں لا سکتے۔خود مجھے ایک بڑے سرکاری افسر نے نہایت ہی حیرت سے پوچھا کہ کیا آپ بھی یہی خیال کرتے ہیں کہ اسلامی پر دہ اب دنیا میں قائم ہو سکتا ہے۔اس کا مطلب یہ تھا کہ میں تو آپ کو عظمند سمجھتا ہوں کیا آپ بھی ایسی جہالت کی بات کے قائل ہیں۔میں نے جواب دیا کہ پردہ سے زیادہ اہم امور ہیں جن میں تبدیلی کو ناممکن سمجھا جاتا تھا۔مگر ان میں تبدیلیاں ہوتی ہیں۔میں نے اس افسر سے کہا کہ آپ تو تاریخ دان ہیں کیا آپ کو ایسے امور معلوم ہیں یا نہیں کہ جن کے متعلق یہ سمجھا جاتا تھا کہ ان میں تبدیلی نہیں ہو سکتی مگر آخر ہو گئی۔اس نے کہا کہ ہاں ایسے امور تو ہیں۔میں نے کہا جب مثالیں موجود ہیں تو باقی صرف یقین کی بات رہ جاتی ہے۔مجھے یہ یقین ہے کہ ایسا ہو کر رہے گا اور آپ سمجھتے ہیں، نہیں ہو سکتا۔آج سے ۲۵ سال قبل کون کہہ سکتا تھا کہ یورپ میں ڈیما کریسی کا خاتمہ ہو جائے گا۔صرف پچیس سال قبل یہ سمجھا جاتا تھا کہ تمام بادشاہتیں مٹ کر ان کی جگہ جمہوری سلطنتیں قائم ہو جائیں گی مگر آج علی الاعلان جرمنی، اٹلی اور پین میں ڈیما کریسی کی ہنسی اڑائی جارہی ہے اور کہا جاتا ہے کہ کیسے بیوقوف وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ڈیما کریسی کے ذریعہ کسی ملک کی ترقی ہو سکتی ہے۔سارے افراد کہاں اتنے " عظمند ہو سکتے ہیں کہ ملکی ترقی کے وسائل کو سمجھ سکیں۔صرف چند لوگ ہی ایسے ہو سکتے ہیں اور ان کے پیچھے چل کر ہی ترقی ہو سکتی ہے۔انگلستان کے سیاستدانوں کی آج سے صرف ۲۵ سال قبل کی کتابیں پڑھو۔ان میں اس خیال کا شائبہ بھی نہیں ملے گا جو آج دنیا میں قائم اور رائج ہے۔ان کتابوں میں یہی ہے کہ ہم نے دنیا میں ڈیما کریسی کے اصول کو قائم کیا ہے اور آج ہم اس میں کامیاب ہو گئے ہیں اور دنیا میں یہی اصول غالب ہے۔مگر آج ان میں سے کئی ایک کی تقریریں شائع ہو چکی ہیں جن میں انہوں نے کہا ہے کہ آج سوائے انگلستان کے ڈیماکریسی کے اصول کہیں بھی قائم نہیں۔کتنا بڑا فرق ہے کتنا قلیل زمانہ اور کتنا وسیع تغیر ہے۔پس اگر دنیا کے لوگوں کی کوششوں سے دنیا کے خیالات تبدیل ہو سکتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی مدد سے کیوں نہیں ہو سکتے۔فرق صرف یقین اور ایمان کا ہے۔لوگ خیال کرتے ہیں کہ دنیا کے خیالات میں تبدیلی کا ذریعہ یونیورسٹیاں اور بڑے بڑے بار سوخ لیڈر ہیں۔اور وہی دنیا کے خیالات کو بدل سکتے ہیں۔مگر ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی مدد سے یہ تغیر ہو سکتے ہیں۔تغیرات کے ہونے میں کسی کو شک نہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ اسلام کے مخالف کہتے ہیں۔کہ دنیا چو نکہ ان باتوں کو ماننے کے لئے تیار نہیں، اس لئے یہ تبدیلی ہو کر رہے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے جوار شاد فرمایا وہ اس زمانہ میں غیر ممکن نظر آتا ہے آج سارے کے سارے مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام اپنی اصلی صورت میں دوبارہ قائم نہیں ہو سکتا۔