مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 424

424 " میں نے اس دفعہ کے پروگرام میں دیکھا ہے کہ یہ مجلس خدام الاحمدیہ کا ساتواں سالانہ جلسہ ہے۔سات کا عدد اسلامی اصطلاح میں تکمیل پر دلالت کرتا ہے۔پس ہر ایک خادم احمدیت کو اپنے دل میں غور کرنا چاہئے کہ آیا ان سات سالوں میں اس کی یا اس کے محلہ کی یا اس کے شہر کی یا اس کی قوم کی تکمیل ہو گئی ہے۔سات سال کا عرصہ کوئی معمولی عرصہ نہیں۔رسول کریم میل ل ل ل لو ہم نے ہجرت کے سات سال بعد یعنی آٹھویں سال تمام عرب پر غلبہ حاصل کر لیا تھا اور وہ ملک جو ایک سرے سے دوسرے سرے تک اسلام کی مخالفت میں کھول رہا تھا اور اس کا جوش دوزخ کی آگ کو مات کر رہا تھا ، عاشقوں اور فدائیوں کے طور پر آپ کے قدموں میں اگر ا۔اس سات سال کے عرصہ میں صحابہ نے ملک کی حالت کو بدل ڈالا، قلوب کی حالت کو بدل ڈالا اور ان کے اندر زمین و آسمان کے فرق کی طرح امتیاز قائم کر دیا۔پس خدام الاحمدیہ کو بھی سوچنا چاہئے کہ انہوں نے اس سات سال کے عرصہ میں ملک کو چھوڑ کر ، ضلع کو چھوڑ کر ، شہر کو چھوڑ کر محلہ کو چھوڑ کر گھر کو چھوڑ کر اپنے دل میں کیا فرق اور امتیاز پیدا کیا ہے۔انسان دوسروں کے متعلق ہزاروں باتیں کہتا ہے۔اگر حق قبول کرنے کے متعلق کوئی بات ہو تو لوگ فورا دوسروں کے متعلق کہہ دیتے ہیں کہ نادان لوگ ہیں ، سنتے نہیں۔جاہل لوگ ہیں کسی بات پر غور نہیں کرتے۔دنیا کے کاموں میں مشغول رہتے ہیں اور دین کی طرف توجہ نہیں کرتے۔لیکن اگر یہی باتیں ان کے اندر پائی جائیں تو کیا یہی باتیں وہ اپنے متعلق کہنے کو تیار ہوتے ہیں۔اپنے ہمسایہ کے متعلق ہمیشہ کہتے رہیں گے کہ بڑا ضدی ہے مانتا نہیں۔دو تین سال سمجھاتے ہو گئے ہیں پھر بھی نہیں سمجھتا۔لیکن اگر ان کے اپنے متعلق یہی سوال ہو تو کیا وہ اپنے نفس کے متعلق بھی یہی کہیں گے کہ بڑا ضدی ہے ، نہیں مانتا۔بہت سمجھایا ہے ، نہیں سمجھتا۔ہمسائے کے متعلق یہ عذر کر دیتے ہیں کہ سنتا ہی نہیں بڑا جاہل ہے۔مگر کیا اپنے نفس کے متعلق بھی یہی کہیں گے کہ سنتا ہی نہیں ، بڑا جاہل ہے۔اپنے ہمسائے کے متعلق تو کہہ دیتے ہیں کہ سارا دن دنیا کے کاموں میں مشغول رہتا ہے دین کے کاموں کی طرف توجہ نہیں کرتا مگر کیا اپنے نفس کے متعلق بھی یہی کہیں گے کہ سارا دن کام میں لگا رہتا ہوں اس لئے دین کے کاموں کی طرف توجہ نہیں کر سکتا۔غرض وہ کونسا جواب ہے جو اپنے ہمسائے کے لئے دیتے ہیں اور اپنے لئے بھی وہی جو اب پسند کرتے ہوں۔اگر کوئی شخص ان کی طرف سے یہی جواب دے تو لال لال آنکھیں نکال کر دیکھیں گے اور کہیں گے اس نے میری ہتک کر دی۔پس یہ ایک اہم سوال ہے اور ہر خادم کو اس امر کے متعلق غور کرنا چاہئے کہ اس سات سال کے عرصہ میں اس نے کیا کیا۔جہاں تک اہم باتوں کا سوال ہے ، ابھی تک خدام ان میں بہت پیچھے ہیں۔حاضری سالانہ اجتماع کی حاضری کو ہی دیکھ لو کتنی کم ہے۔بیرونی جماعتوں کی طرف سے پچھلے سال چودہ نمائندے آئے تھے اور اس سال اکتیس نمائندے آئے ہیں۔ہماری جماعتیں آٹھ سو سے زیادہ ہیں اور جو جماعت آٹھ سو سے زیادہ شاخیں رکھتی ہو ، اس کے صرف اکتیس نمائندے آئیں تو یہ کوئی اچھا نمونہ نہیں بلکہ ایسا نمونہ ہے جسے دشمن کے سامنے پیش کرتے ہوئے ہمارے ماتھے پر پسینہ کے قطرے آجاتے ہیں۔ہم دوسروں کو برا کہتے ہیں لیکن