مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 418

418 مکان کو ملامت کرے کہ ہر شخص اس قسم کے مطالبہ کرنے والے سے کہے گا کہ تم گئے ہی کیوں تھے اور تم نے اس سے یہ مطالبہ کیوں کیا کہ اپنا مکان خالی کر دو۔اگر اس نے انکار کر دیا ہے تو بہر حال برا منانے کی کوئی وجہ نہیں ، اس کا حق تھا کہ وہ تمہیں کے تم اپنے گھر بیٹھو میں تمہاری اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔پس میرے نزدیک انصار اللہ سے چندہ مانگ کر خدام الاحمدیہ نے غلطی کی۔خدام الاحمدیہ کی جو عمر میں نے مقرر کی ہے وہ ایسی نہیں کہ ان کے پاس بر سر کار نوجوانوں کی کمی ہو اور وہ اس بات پر مجبور ہوں کہ چالیس سال سے بڑی عمر والوں سے بھی اپنی ضروریات کے لئے چندہ کا مطالبہ کریں۔چالیس سال ایسی عمر ہے جس میں ایک ملازم شخص اپنی ملازمت کی اکثر عمر گزار چکا ہو تا ہے۔ہیں سال کی عمر میں عموماً ملازمت اختیار کی جاتی ہے اور پچپن سال کی عمر میں پنشن ہو جاتی ہے۔گویا ملازمت والی عمر میں سے میں نے ہمیں سال خدام الاحمدیہ کو دیئے ہیں اور پندرہ سال میں نے انصار اللہ کو دیئے ہیں۔لوگوں کی بیس سالہ ملازمت سے خدام فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور لوگوں کی پندرہ سالہ ملازمت سے انصار فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور اس کے مقابل میں انصار کو عمر کا وہ حصہ دیا گیا ہے جس میں وہ صرف پندرہ سال فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ وہ اپنے اخراجات کے لئے انصار اللہ کے پاس جاتے اور ان سے چندہ کا مطالبہ کرتے لیکن اگر وہ گئے ہی تھے تو انصار کا جواب بھی مجھے اس کشمیری کا واقعہ یاد دلاتا ہے جو ہمارے ملک میں ایک مشہور مثال کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔خدام الاحمدیہ کوہ قاف سے آنے والی پریوں کا نام نہیں بلکہ خدام الاحمدیہ نام ہے ہمارے اپنے بچوں کا اور خدام الاحمدیہ کے سپرد یہ کام ہے کہ وہ بچوں کو محنت کی عادت ڈالیں اور ان میں قومی روح پیدا کریں۔ان کے سپرد یہ کام نہیں گو ا خلا قا یہ بھی ہونا چاہئے کہ وہ بحیثیت خدام کے بھی لوکل انجمن کے ساتھ مل کر کام کریں کیونکہ خدام الاحمدیہ کا ہر ممبر مقامی انجمن کا بھی ممبر ہوتا ہے۔یہ تو نہیں ہو تاکہ خدام الاحمدیہ میں شامل ہونے کی وجہ سے لوکل انجمن کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں رہتا۔ہر احمدی جو چالیس سال سے خدام اور انصار مقامی انجمن کے بھی ممبر ہیں اور اس سے علیحدہ نہیں۔کم عمر کا ہے وہ خدام الاحمدیہ کا ممبر ہے۔ہر احمدی جو چالیس سے نیچے یا چالیس سال سے اوپر ہے وہ مقامی انجمن کا بھی ممبر ہے۔اس سے کوئی علیحدہ چیز نہیں۔پس خدام الاحمدیہ کے یہ معنے نہیں کہ وہ جماعت احمد یہ مقامی کے ممبر نہیں ہیں بلکہ خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کے مجموعے کا نام مقامی انجمن ہے۔مثلالاہور کی انجمن ہے یا دہلی کی انجمن ہے یا پشاور گجرات اور سیالکوٹ کی انجمن ہے یا امرت سر کی انجمن ہے۔ان انجمنوں کے کیا معنے ہیں۔ان انجمنوں کے معنے ہیں کہ گو فردا فردا ہر شخص جو چالیس سال سے کم عمر کا ہے ، وہ خدام الاحمدیہ میں شامل ہے اور فردا فردا ہر شخص جو چالیس سال سے زیادہ عمر کا ہے، وہ انصار اللہ میں شامل ہے مگر ان خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کے مجموعے کا نام ہے جماعت احمد یہ لاہور یا جماعت احمد یہ دہلی یا جماعت احمد یہ پشاور یا جماعت احمدیہ گجرات یا جماعت احمد یہ سیالکوٹ یا جماعت احمد یہ امرتسر۔پس میں تو سمجھ ہی نہیں سکا کہ اس میں اختلاف کی کون سی بات ہے یا کس بناء پر خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ آپس میں اتحاد نہیں کر سکتے۔خدام الاحمدیہ کے معنے صرف اتنے ہیں کہ وہ نوجوانوں کو آوارہ گردی سے بچائیں اور انہیں کام کی عادت ڈالیں۔بے شک ان میں نقائص بھی ہیں مگر جہاں تک میرا تجربہ ہے اور جو روایتیں میں نے سنی ہیں، ان کی بناء پر میں کہہ سکتا ہوں کہ جو لوگ خدام الاحمدیہ میں صحیح طور پر شامل ہوتے ہیں، ان میں کام کرنے کی عادت ضرور پیدا ہو جاتی ہے۔ذاتی طور پر بھی میں نے دیکھا ہے کہ خدام الاحمدیہ میں جن نوجوانوں کو کام کرنے کا موقعہ ملا ہے، وہ بہت زیادہ ذہین اور بہت زیادہ تجربہ کار ہو گئے ہیں اور اب