مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 417
417 خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کے قیام کی غرض۔جماعتی استحکام ہے کچھ دن ہوئے میرے پاس ایک شکایت پہنچی غالبا دار الرحمت غربی کے خدام الاحمدیہ کی طرف سے ان کے صدر کے پاس ایک شکایت کی گئی جس کی ایک نقل شکایت کنندہ نے میرے پاس بھی بھیج دی ہے۔وہ شکایت یہ ہے کہ خدام الاحمدیہ کے چندہ کے لئے جب نوجوان انصار اللہ کے پاس گئے تو انہوں نے نہ صرف چندہ دینے سے انکار کیا بلکہ قسم قسم کے طعنے بھی دیئے۔تمہارا ہمارے ساتھ کیا واسطہ ہے ؟ تم خدام ہو ، ہم انصار ہیں۔تم خدام ہمارا کیا کام کرتے ہو جس کا بدلہ میں ہم تمہیں چندہ دیں۔اگر یہ رپورٹ درست ہے تو جہاں تک چندہ کا سوال ہے میں خدام سے یہ کہوں گا ان کے لئے اس بات پر برا منانے کی وجہ ہی کیا تھی۔خدام سب کے سب اطفال تو نہیں ہیں۔اطفال الاحمدیہ اور خدام الاحمدیہ میں فرق ہے۔خدام الاحمدیہ سے مراد وہ تمام نوجوان ہیں جو پندرہ سے چالیس سال کی عمر کے ہیں اور یہ ظاہر بات ہے“ چالیس سال کی عمر تک نوجوان بے کار نہیں رہتے۔بالعموم اٹھارہ انہیں یا بیس سال کی عمر میں وہ کام پر لگ جاتے ہیں گویا پندرہ سال کی عمر سے خدام الاحمدیہ کے ممبر شروع ہوتے ہیں۔ہیں سال کی عمر تک وہ کسی نہ کسی کام پر لگ جاتے ہیں اور پچیس سال تک وہ اس جماعت میں شامل رہتے ہیں۔ان میں سے پانچواں حصہ ایسے خدام کا لیا جا سکتا ہے جو بر سر کار نہیں لیکن باقی ۴/۵ یعنی اسی فیصد حصہ ایسے نوجوانوں کا ہے جو کام پر لگے ہوئے ہیں۔اگر تو خدام الاحمدیہ کی جماعت پندرہ سولہ یا سترہ اٹھارہ سال کے نوجوانوں پر مشتمل ہوتی تو وہ کہہ سکتے تھے ، ہم تو کماتے نہیں۔ہم اپنے لئے روپیہ کہاں سے لائیں۔ہم نے تو بہر حال بڑوں سے مانگنا ہے۔مگر جبکہ خدام الاحمدیہ کے ممبر تمام نوجوان ہیں جو پندرہ سے چالیس سال کی عمر کے ہیں اور ان میں سے اسی فیصد نوجوان ایسے ہیں جو ملازمتیں رکھتے ہیں یا تجارتی کاروبار میں مصروف ہیں تو ان کو اپنے کاموں کے لئے دوسروں سے مانگنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی۔اگر مرکزی دفاتر کے کارکنوں، قادیان کے دوکانداروں کو ہی دیکھا جائے تو میں سمجھتا ہوں ان میں سینکڑوں کی تعداد ایسے لوگوں کی نکلے گی جو اپنی عمر کے لحاظ سے خدام الاحمدیہ میں شامل ہیں اور جب اس کثرت کے ساتھ بر سر کار افراد خدام الاحمدیہ کی تنظیم میں شامل ہیں تو میرے نزدیک نوجوانوں کو اپنا بوجھ خود اٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔آخر وجہ کیا ہے کہ وہ انصار کے پاس جائیں اور ان سے اپنے لئے چندہ مانگیں۔ہر شخص کے اندر غیرت ہونی چاہئے اور ہر جماعت کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اپنی ضروریات اپنے افراد کے ذریعہ پوری کرے سوائے اس کے کہ کوئی کام پیش آجائے جس کا بوجھ وہ خود نہ اٹھا سکتی ہو اور جس کے لئے دوسروں کی امداد کے بغیر گزارہ نہ ہو۔ورنہ عام دفتری ضرورتوں کے لئے جو چندے کرنے پڑتے ہیں وہ بہر حال جماعت کی طاقت کے اندر ہوتے ہیں اور ان کا پورا کرنا ہر جماعت کا اپنا فرض ہوتا ہے۔میں کہتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ قادیان میں سے پندرہ سو بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ رنگروٹ باہر جا چکا ہے، اگر اب بھی گنا جائے ،اب بھی قادیان میں نوجوانوں کی تعداد بہت کافی نکل آئے گی۔اگر وہ معمولی رقوم بھی چندہ میں ادا نہ کر سکیں تو یہ ان کا اپنے منہ سے اپنی شکست کا اقرار کرنا ہو گا۔پس میرے نزدیک اول تو ان کو انصار اللہ کے پاس جانا ہی نہیں چاہئے تھا اور اگر گئے تھے تو ان کے انکار پر برا نہیں منانا چاہئے تھا۔جو شخص اپنی حد سے آگے نکل جائے اس کو لازما اس قسم کا تلخ جواب سننا پڑتا ہے۔اگر ایسا شخص دوسرے کے پاس جائے اور اسے کے اپنا مکان میرے لئے خالی کر دو اور وہ آگے سے انکار کر دے تو بجائے اس کے کہ کوئی مالک