مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 400
400 آپس میں لڑائی جھگڑے کی عادت تیسری چیز لڑائی جھگڑا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ یہ عادت ابھی برابر جاری ہے۔ذراسی بات ہوتی ہے لیکن اس پر آپس میں لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔یہ بھی ایک خطر ناک نقص ہے جس کا ازالہ ضروری ہے۔بسا اوقات انسان ہنسی مذاق میں کوئی بات کہہ رہا ہوتا ہے مگر دوسرا اس مزاح کو برداشت نہ کر کے لڑائی جھگڑے کی صورت پیدا کر دیتا ہے حالانکہ ایسے حالات میں بات کو ہنسی میں ٹال دینا زیادہ مناسب ہوا کرتا ہے مگر بعض دفعہ ایک شخص غصیلا ہو تا ہے اور مزاح کو برداشت نہ کر کے وہ لڑ پڑتا ہے۔جہاں ایسی صورت پیدا ہو وہاں دوسرے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ خاموش رہے اور وہاں سے اٹھ کر چلا جائے۔ہر بات جو نا پسند ہو اس پر لڑائی شروع کر دینا، معاملہ کو بلاوجہ طول دینا اور تفرقہ و شقاق کی صورت پیدا کر کے مقاطعہ کی نوبت پہنچانا اور بول چال بند کر دینا ہر گز ایک مومن کے شایان شان نہیں۔اگر ہر شخص کو اس امر کی اجازت دے دی جائے کہ جس سے چاہے بول چال بید کر دے، جس سے چاہے تفرقہ اختیار کرلے تو قوم کی ٹوٹتے ٹوٹتے کوئی حیثیت ہی باقی نہیں رہ جاتی۔یہ باتیں ہیں جن کی طرف خدام الاحمدیہ کو میں خصوصیت کے ساتھ توجہ دلاتا ہوں اور ہدایت کرتا ہوں کہ انہیں جہاں بھی پتہ لگے کہ دو احمدی نوجوان کسی وجہ سے آپس میں گفتگو نہیں کرتے تو ان کے اس فعل کو قومی جرم قرار دیا جائے اور انہیں نصیحت کی جائے کہ مقاطعہ کرنایا بول چال بند کر دینا ان کے لئے جائز نہیں ہے۔یہ تین چیزیں ہیں جن کی طرف میں اس وقت خصوصیت سے خدام الاحمدیہ کو توجہ دلاتا ہوں اور ا بات تو یہ ہے کہ درد کی وجہ سے مضمون کا تسلسل بھی قائم نہیں رہا اور اب مزید کچھ کہنا میرے لئے ناممکن ہے۔اس لئے میں انہی تین شقوں پر آج کی تقریر کو ختم کرتا ہوں اور اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ ہمارے کارکنوں کو اور تمام خدام اور اطفال کو اپنی اپنی ذمہ داریوں کے سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمادے اور ہر قدم پر وہ آپ لوگوں کی راہنمائی فرمادے تاکہ وہ باتیں جو آپ کو معلوم ہیں ان پر آپ عمل کر سکیں اور جو باتیں معلوم نہیں وہ خدا تعالیٰ خود آپ لوگوں کو سکھائے تا کہ آپ دین کی باتوں کو اچھی طرح جانیں اور ہمیشہ ان پر عمل کرتے رہیں۔آمین۔“ ( تقریر بر موقعه سالانہ اجتماع خدام الاحمدیہ مورخه ۱۵ اکتوبر ۱۹۴۴ء مطبوعه الفضل ۹ نومبر ۱۹۴۴ء)