مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 368
368 ہ میں نے جماعت کو کچھ عرصہ سے تین مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا ہے تاکہ جماعت کا سارازور اور اس کی طاقت اسلام اور احمدیت کی اشاعت میں صرف ہو۔اسلامی عقائد کے قیام میں وہ مشغول ہو جائے اور اعمال خیر کی ترویج میں اس کی تمام مساعی صرف ہونے لگ جائیں۔جماعت کے یہ تین اہم ترین حصے انصار الله خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ ہیں۔ذیلی تنظیموں کی نفسیاتی اہمیت یہ ایک قدرتی بات ہے کہ جس قسم کا کوئی آدمی ہوتا ہے اسی قسم کے لوگوں کی وہ نقل کرنے کا عادی ہوتا ہے۔بوڑھے عام طور پر بوڑھوں کی نقل کرتے ہیں اور نوجوان عام طور پر نوجوانوں کی نقل کرتے ہیں اور بچے عام طور پر بچوں کی نقل کرتے ہیں۔کہتے تھے کہ کوئی بچہ تھا جو مکان کی چھت پر چڑھ کر اس کے کنارہ کی طرف چلا گیا اور آہستہ آہستہ ایسی جگہ پہنچ گیا کہ قریب تھا کہ وہ نیچے گر جائے۔وہ چھت کے کنارے پر کھڑے ہو کر بازار کی طرف کھڑے ہو کر جھانک رہا تھا کہ اس کی ماں نے اسے دیکھ لیا اور اس نے گھبرا کر اسے پکڑنا چاہا۔تاکہ وہ کہیں نیچے نہ گر جائے۔بچوں کی عادت ہوتی ہے کہ اگر ان کو پکڑنے کے لئے کوئی دوڑے تو وہ اور آگے کی طرف بھاگتے ہیں۔۔جب اس کی ماں نے گھبراہٹ کی حالت میں اسے پکڑنا چاہا تو کسی سمجھدار انسان نے اسے دیکھ لیا اور اسے کہا کہ یہ بیوقوفی نہ کرنا۔اگر تم نے ایسا کیا تو بچہ آگے کی طرف دوڑے گا اور نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ نیچے گر جائے گا۔اگر تم بچے کو آرام سے نیچے اتارنا چاہتی ہو تو اس کا طریق یہ ہے کہ اس کے پیچھے کی طرف کوئی بچہ لا کر بٹھا دیا جائے اسے دیکھ کر یہ پیچھے مڑ جائے گا اور یا کوئی شیشہ رکھ دیا جائے۔اس شیشہ کو جب یہ دیکھے گا تو اپنا عکس اس میں دیکھ کر خیال کرے گا کہ یہ بھی کوئی بچہ ہے اور جب یہ اس کی طرف جھکے گا تو سمجھے گا کہ دوسرا بچہ بھی میری طرف جھک رہا ہے اس طرح وہ دوسرے بچہ کے خیال کے ماتحت اسی جگہ بیٹھ جائے گا اور اس کے گرنے کا خطرہ جاتا رہے گا۔چنانچہ وہ شیشہ لائی یا کوئی بچہ لا کر اس کے نیچے بٹھا دیا اور اس طرح سلامتی کے ساتھ نیچے اتارنے میں کامیاب ہو گئی۔تو دنیا میں یہ قاعدہ ہے کہ ایک قسم کی چیزیں ایک دوسرے کی طرف زیادہ جھکتی ہیں۔نوجوان قدرتی طور پر یہ خیال کرتے ہیں کہ بوڑھوں کا کیا ہے وہ اپنی عمر میں گزار چکے ہیں اور ہم وہ ہیں جو ابھی جوانی کی عمر میں سے گذر رہے ہیں۔اس وجہ سے اگر کوئی بوڑھا انہیں نصیحت کرے کہ اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔اپنے اشغال اور افعال میں نیکی اور تقویٰ مد نظر رکھنا چاہئے اور کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہئے جو اخلاق اور مذہب کے خلاف ہو تو وہ اس کی بات کو مذاق میں اڑا دیتے ہیں۔اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے اور خیال کرتے ہیں بوڑھوں کا کیا ہے یہ اپنے وقت میں تو مزے اٹھا چکے ہیں اور اب ہمیں نصیحت کرنے لگے ہیں کہ ہم ہر قسم کے کاموں سے اجتناب کریں۔