مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 369
369 لیکن اگر ویسی ہی نصیحت انہیں کوئی نوجوان کرے تو وہ اس کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ تم اپنی عمر عیش و عشرت میں گزار کر اب ہمیں نصیحت کرنے لگ گئے ہو بلکہ وہ مجبور ہوتے ہیں کہ اس کی نصیحت پر کان دھر میں اور اس کی بات کو تسلیم کریں۔کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ یہ نصیحت کرنے والا بالکل ہمارے جیسا ہے۔یہ بھی اسی عمر کا ہے جو ہماری عمر ہے۔اس کا بھی ایسا ہی دل ہے جیسا ہمارا دل ہے۔اس کے اندر بھی ویسے ہی جذبات اور احساسات ہیں جیسے جذبات اور احساسات ہمارے اندر ہیں لیکن جب یہ بھی ہمیں نصیحت کر رہا ہے تو ہمیں ضرور اس کی بات پر غور کرنا چاہئے۔اور اگر کچھ نوجوان ایسے بھی ہوں جو اس کی نصیحت پر عمل کرنے کے لئے تیار نہ ہوں تو کم سے کم وہ اعتراض کا کوئی اور طریق اختیار کریں گے ، یہ نہیں کہیں گے کہ خود جوانی کی عمر میں مزے اٹھا کر اب ہمیں روکا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ہم نیکی کی طرف توجہ کریں۔اسی طرح بچے بچوں کے ذریعہ بہت جلد سمجھ سکتے ہیں اور بوڑھے بوڑھوں کے ذریعہ باتیں سمجھنے کے عادی ہوتے ہیں۔اگر کسی بوڑھے کے پاس کوئی نوجوان جا کر کہے کہ جناب فلاں بات اس طرح ہے اور آپ اس طرح کر رہے ہیں تو وہ فورا اس کی بات سنتے ہی کہہ دے گا کہ میاں کوئی عقل کی بات کرو تم ابھی کل کے بچے ہو اور میں بوڑھا تجربہ کار ہوں۔تم ان باتوں کی حقیقت کو کیا سمجھو۔میں خوب جانتا ہوں کہ بات کس طرح ہے اور نیکی اور تقویٰ کا کونسا پہلو ہے۔اسی طرح اگر کوئی بچہ بوڑھے کو نصیحت کرے تو وہ نصیحت کی بات اس بچہ کے منہ سے سن کر ہنس پڑے گا اور کہے گا یہ پاگل ہو گیا ہے۔ابھی تو خود نا تجربہ کار ہے۔بچپن کے زمانہ میں ہے اور مجھے نصیحت کر رہا ہے۔لیکن اگر بوڑھا بوڑھے کو نصیحت کرے تو وہ ضرور اس کی نصیحت پر کان دھرے گا کیونکہ وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم تجربہ میں مجھ سے کم ہو میں تمہاری بات کس طرح مان سکتا ہوں۔غرض یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم عمر ہی اپنے ہم عمروں کو اچھی طرح سمجھا سکتے ہیں بلکہ میں نے تو یہاں تک دیکھا ہے اگر عمر میں پانچ دس سال کا فرق ہو تب بھی دوسرا شخص سمجھتا ہے کہ میں تو دوسروں کو نصیحت کرنے کا حق رکھتا ہوں مگر کوئی دوسرا شخص جو عمر میں مجھ سے کم ہو چاہے چند سال ہی کم ہو یہ حق نہیں رکھتا کہ مجھے نصیحت کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں صدرانجمن احمدیہ کے اجلاس میں جب مختلف معاملات پر بحث ہوتی تو بسا اوقات خواجہ کمال الدین صاحب، مولوی محمد علی صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب ایک طرف ہوتے اور بعض دوست دوسری طرف۔ان میں سے شیخ رحمت اللہ صاحب مولوی محمد احسن صاحب امر وہی سے عمر میں صرف چار پانچ سال چھوٹے تھے مگر میں نے کئی دفعہ دیکھا کہ جب آپس میں کسی بات پر بحث شروع ہو جاتی تو مولوی محمد احسن صاحب امروہی شیخ رحمت اللہ صاحب کو مخاطب کر کے کہتے کہ تم تو ابھی کل کے بچے ہو تمہیں کیا پتا کہ معاملات کو کس طرح طے کیا جاتا ہے۔میرا تجربہ تم سے زیادہ ہے۔اور جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہی درست ہے حالانکہ مولوی محمد احسن صاحب امروہی اور شیخ رحمت اللہ صاحب کی عمر میں صرف چار پانچ سال کا فرق تھا۔مگر چار